طورخم بارڈر کی بندش: مقامی معاشی دلدل اور قومی سیکیورٹی کا خطرہ
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
طورخم بارڈر کئی دہائیوں سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت، نقل و حمل اور انسانی رابطے کا سب سے اہم اور سلیقہ مند ذریعہ رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں بالخصوص 2025-2026 کے موجودہ دور میں، اس سٹریٹجک گزرگاہ کی بار بار اور طویل بندشوں نے نہ صرف دونوں ممالک کی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے بلکہ سرحدی علاقوں کے مقامی لوگوں کی زندگیوں کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ لنڈی کوتل، خیبر اور اس سے ملحقہ دیگر قبائلی علاقوں کے رہائشی، جن کی معیشت کا سو فیصد انحصار اسی گزرگاہ پر ہے، آج بے روزگاری، خطِ غربت اور گہری مایوسی کی دلدل میں دھنس چکے ہیں۔ کسی بھی ریاست کے لیے اس کی سرحدیں صرف سیکیورٹی لائن نہیں ہوتیں بلکہ وہاں بسنے والے عوام اس سیکیورٹی کے ضامن ہوتے ہیں، اس لیے اگر ان کے روزگار کے متبادل ذرائع مسلسل مفقود رہے تو یہ معاشی بحران بالآخر قومی سلامتی کے لیے ایک ایسا ہولناک چیلنج بن کر ابھرے گا جسے صرف بندوق کے زور پر حل کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
طورخم بارڈر کی بندش نے سرحدی پٹی پر رہنے والے ہزاروں خاندانوں کو براہِ راست فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے جس کی وجہ سے لنڈی کوتل بازار، جو کسی دور میں اشیائے خورونوش اور گہما گہمی کا مرکز ہوا کرتا تھا، آج ویرانی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ مقامی تاجر، دکاندار اور دیہاڑی دار مزدور اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں کیونکہ ماضی میں بارڈر پر آنے والے ایک ٹرک کی لوڈنگ اور ان لوڈنگ سے کم و بیش دس سے بیس خاندانوں کا پیٹ بھرتا تھا، لیکن اب کسٹمز ایجنٹس، ٹرک ڈرائیورز، کنڈکٹرز، لوڈرز، ہوٹل مالکان اور ریڑھی بان سب کے سب بیک وقت بے روزگار ہو چکے ہیں۔ اس معاشی بدحالی کا اندازہ ایک مقامی شینواری نوجوان کی حالت سے لگایا جا سکتا ہے جو بارڈر کھلا ہونے پر روزانہ 1000 سے 1500 روپے کما کر گھر کا چولہا جلاتا تھا مگر اب مہینوں سے بے روزگار ہو کر قرض کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور ہے، جبکہ اس جمود کا سب سے زیادہ اثر خواتین اور بچوں پر پڑ رہا ہے جن کی تعلیم چھوٹ رہی ہے اور مناسب علاج نہ ہونے کے باعث صحت کے شدید مسائل جنم لے رہے ہیں۔
اگر ہم موجودہ حالات کا ماضی سے تقابلی جائزہ لیں، تو 1990ء کی دہائی اور 2000ء کے ابتدائی برسوں میں طورخم بارڈر کی صورتحال یکسر مختلف تھی کیونکہ اس دور میں اگرچہ سیکیورٹی کے سخت ضوابط نہیں تھے، لیکن بارڈر کی بندش کے واقعات بہت کم ہوتے تھے اور تجارت کا تسلسل برقرار رہتا تھا۔ شینواری اور آفریدی قبائل نسل در نسل نقل و حمل، گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس اور چھوٹی سرحدی تجارت سے وابستہ رہے اور برطانوی دورِ حکومت میں بھی ان قبائل کی معیشت کا بڑا حصہ تجارت اور تجارتی راستوں کی حفاظت کے عوض ملنے والے سرکاری وظائف یا متبادل راستوں پر منحصر تھا، جہاں ریاست ان کی معاشی بقا کا خیال رکھتی تھی۔ آج صورتحال یکسر بدل چکی ہے اور سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد قانونی اور انتظامی تبدیلیاں تو نافذ کر دی گئیں، کسٹمز اور ٹیکسیشن کا نظام بھی آ گیا، لیکن ان قبائلیوں کو معاشی متبادل فراہم نہیں کیے جا سکے، جس کی وجہ سے قانونی نظام ان کے لیے ریلیف کے بجائے ایک بوجھ بن گیا۔
اگر ہم اس کا موازنہ پاکستان کی دوسری بڑی مغربی سرحد چمن (اسپین بولدک) سے کریں، تو وہاں بھی حالیہ دنوں میں پاسپورٹ اور ویزا کی شرط کے نفاذ کے بعد ایسے ہی معاشی مسائل اور عوامی احتجاج دیکھنے کو ملے ہیں، تاہم چمن کے مقابلے میں طورخم بارڈر کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کہیں زیادہ گہری ہے، کیونکہ یہ وسط ایشیا کے لیے پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی گیٹ وے ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان پہاڑی علاقوں میں زراعت اور مویشی پالنے کے مواقع انتہائی محدود اور زمینیں بنجر ہیں، جس کے باعث جو تھوڑی بہت پیداوار ہوتی بھی ہے، اس کی مارکیٹ تک رسائی اسی بارڈر اکانومی سے جڑی ہے۔ جب یہ معاشی لائف لائن کٹتی ہے، تو نوجوان نسل کے پاس شہروں کی طرف ہجرت کے سوا کوئی چارہ نہیں بچتا جو مشترکہ خاندانی نظام کو توڑ رہی ہے اور تعلیم یافتہ مگر تکنیکی ہنر سے عاری نوجوانوں میں نفسیاتی دباؤ اور سماجی انتشار کو جنم دے رہی ہے۔
مقامی لوگوں کے قانونی روزگار کے ذرائع کا مستقل بند ہونا صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ پاکستان کی قومی سلامتی کے لیے کئی بڑے اسٹریٹجک خطرات پیدا کر رہا ہے کیونکہ جب بھوک اور افلاس گھروں میں ڈیرے ڈالتی ہے تو قانون کا احترام ختم ہو جاتا ہے اور قانونی روزگار نہ ہونے کی صورت میں نوجوان نسل بقا کے لیے چوری، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان جیسے جرائم کی طرف مائل ہو سکتی ہے۔ بارڈر کی مکمل بندش سے ہتھیاروں، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے منظم نیٹ ورکس کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا، جیسا کہ 2010ء کی دہائی کا تقابلی جائزہ گواہ ہے کہ جب سرحدی سختیوں کے باعث معاشی دباؤ بڑھا تھا، تو ان علاقوں میں لوکل کرائم ریٹ میں اچانک اضافہ دیکھا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ غربت اور انتہا پسندی کا چولی دامن کا ساتھ ہے، اس لیے عسکریت پسند تنظیمیں ہمیشہ ایسے علاقوں کو اپنی نرسری بناتی ہیں جہاں نوجوان معاشی طور پر مایوس اور ریاست سے ناراض ہوں اور جب طورخم کے نوجوانوں کے پاس عزت سے روٹی کمانے کا کوئی راستہ نہیں رہے گا، تو دشمن قوتیں اور بیرونی انٹیلی جنس ایجنسیاں انہیں بھاری رقوم، جدید ہتھیار اور جھوٹا بیانیہ بیچ کر آسانی سے اپنے ساتھ ملا سکتی ہیں، بالکل اسی طرح جیسے 1980ء اور 1990ء کی افغان جنگ کے دوران اور بعد میں طالبان کے دور میں، معاشی طور پر پسے ہوئے قبائلی نوجوانوں کو ہی بیرونی ایجنڈے کے لیے سب سے زیادہ ایندھن کے طور پر استعمال کیا گیا تھا۔
بارڈر کی باقاعدہ بندش سے آمد و رفت تو رک جاتی ہے، لیکن پہاڑی سلسلوں میں موجود سینکڑوں خفیہ اور غیر رسمی راستے فعال ہو جاتے ہیں جن سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت، بارود کی اسمگلنگ اور منشیات کی ترسیل آسان ہو جاتی ہے اور اس کا براہِ راست نتیجہ پاکستانی شہروں میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے اور سیکیورٹی فورسز پر دباؤ کی صورت میں نکلتا ہے۔ پختون معاشرے میں پختونوالی اور جرگہ سسٹم امن و امان برقرار رکھنے کا بہت بڑا ذریعہ رہے ہیں، لیکن معاشی تباہی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بقا کی جنگ نے اس روایتی نظام کو کمزور کر دیا ہے جس سے وسائل کی کمی کے باعث اندرونی قبائلی جھگڑے بڑھ رہے ہیں اور نوجوان نسل اپنے بڑوں کے فیصلوں سے باغی ہو کر انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہی ہے۔ جب خیبر اور لنڈی کوتل میں روزگار کے تمام دروازے بند ہو جائیں گے، تو آبادی کا ایک بڑا حصہ پشاور، راولپنڈی اور کراچی جیسے بڑے شہروں کا رخ کرے گا اور یہ بڑے پیمانے پر ہونے والی غیر منظم ہجرت شہری علاقوں کے انفراسٹرکچر، سوشل سروسز اور امن و امان پر شدید دباؤ ڈالے گی، جس سے شہری غربت اور نسلی و سماجی تناؤ میں اضافہ ہوگا۔
اگر اس صورتحال کا موازنہ بلوچستان کی سرحدی بندشوں سے کیا جائے، تو وہاں معاشی دباؤ کے باوجود گیس، معدنیات اور متبادل وسائل موجود ہیں، لیکن ضلع خیبر جیسے پہاڑی علاقے میں بارڈر اکانومی کے علاوہ کوئی دوسرا بڑا ذریعہ معاش دستیاب ہی نہیں ہے، بالکل اسی طرح اگر ہم عالمی سطح پر ترکی اور شام یا دیگر مشرقِ وسطیٰ کے سرحدی خطوں کا تقابلی جائزہ لیں، تو وہاں بھی معاشی ناکہ بندیوں نے بالآخر بڑی عسکریت پسند تحریکوں کو جنم دیا ہے، اس لیے پاکستان کو اس عالمی اور تاریخی غلطی سے بروقت سبق سیکھنا ہوگا۔ اس سنگین سیکیورٹی اور معاشی دلدل سے نکلنے کے لیے حکومتِ پاکستان کو فوری طور پر اقدامات کرنے ہوں گے، جن میں بارڈر کو بار بار بند کرنے کے بجائے سفارتی سطح پر معاملات حل کیے جائیں اور جدید اسکیننگ سسٹمز، بائیومیٹرک گیٹس اور کسٹمز کا تیز رفتار نظام لگا کر سیکیورٹی کو یقینی بناتے ہوئے تجارت کو 24 گھنٹے بحال رکھا جائے تاکہ روزگار کا تسلسل برقرار رہے اور غیر قانونی اسمگلنگ کا راستہ خود بخود بند ہو جائے۔
اس کے ساتھ ہی قبائلی نوجوانوں کے لیے کمپیوٹر کورسز، ڈرائیونگ، الیکٹریکل اور میکانیکل ٹریننگ کے مراکز قائم کیے جائیں اور مائیکرو کریڈٹ فراہم کیے جائیں تاکہ وہ اپنے چھوٹے کاروبار شروع کر سکیں اور نوجوان نسل بندوق اٹھانے یا جرائم کی طرف مائل ہونے کے بجائے ملکی معیشت کا مثبت حصہ بنے۔ سیکیورٹی فورسز اور سول ایڈمنسٹریشن کو مل کر ایسے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے چاہئیں جن میں مقامی لیبر اور ٹھیکیداروں کو لازمی شامل کیا جائے اور خیبر پاس کی تاریخی اہمیت کو استعمال کرتے ہوئے محفوظ سرحدی سیاحت کو فروغ دیا جائے تاکہ ریاست اور قبائلی عوام کے درمیان اعتماد کا رشتہ مضبوط ہو اور بیرونی پروپیگنڈا ناکام ہو جائے۔ اس کے علاوہ پورے ضلع خیبر میں 4G انٹرنیٹ، اسکولوں، کالجوں اور جدید اسپتالوں کا نیٹ ورک پھیلایا جائے تاکہ مقامی نوجوان فری لانسنگ اور ڈیجیٹل اکانومی کے ذریعے گھر بیٹھے کما سکیں اور انہیں ہجرت نہ کرنی پڑے، جس سے قبائلی پٹی مستقل طور پر قومی دھارے میں شامل ہو جائے گی اور وہاں کا سماجی استحکام واپس آئے گا۔
طورخم بارڈر کی بندش محض ایک سرحدی یا انتظامی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ براہِ راست پاکستان کی سیکیورٹی، معاشی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کا معاملہ ہے، اس لیے اگر سرحد پر رہنے والے ہزاروں خاندان مستقل طور پر بے روزگار رہے تو یہ معاشی دلدل مزید گہری ہوتی جائے گی اور پاکستان کے ازلی دشمن اس پسماندگی اور غصے کو اپنے ناپاک مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔ ریاست کو اب روایتی طریقوں سے ہٹ کر سوچنا ہوگا کیونکہ صرف فوجی طاقت یا سرحدوں پر خاردار تاریں لگانا ہی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں ہوتی بلکہ بارڈر پر بسنے والے عوام کو معاشی طور پر بااختیار بنانا اور انہیں انصاف کی فراہمی ہی حقیقی، پائیدار اور ناقابلِ تسخیر قومی سلامتی کی واحد ضمانت ہے۔
