ملک سیاسی و سکیورٹی بحران سے دوچار، قومی مکالمے کی ضرورت ہے: اپوزیشن رہنما

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ): تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے بلوچستان، آزاد کشمیر اور ملک کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس فوری طور پر طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اہم قومی معاملات پر تفصیلی بحث کی جا سکے اور قومی سطح پر مشترکہ حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔

اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے بلوچستان کے ضلع زیارت میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں اس نوعیت کے واقعات کے بعد متعلقہ حکام اور وزراء اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیتے ہیں۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ انہیں آزاد کشمیر جانے سے روکا گیا، حالانکہ وہ وہاں اپنے کشمیری بھائیوں سے ملاقات اور تبادلہ خیال کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے جمہوری رویوں، آئینی بالادستی اور سیاسی مکالمے کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔

اس موقع پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا کہ ملک کو درپیش سیاسی اور سکیورٹی چیلنجز کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سیاسی ڈائیلاگ اور مذاکرات میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری سیاست میں برداشت، اختلاف رائے کا احترام اور مکالمے کی روایت کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پریس کانفرنس میں شریک سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک اس وقت سیاسی اور سکیورٹی بحران کی سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے۔ ان کے بقول عوام میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور ریاستی اداروں کو قومی یکجہتی اور استحکام کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر بلوچستان، آزاد کشمیر، امن و امان اور قومی سلامتی سے متعلق امور پر کھل کر بحث کی جائے تاکہ عوام کے تحفظات دور ہوں اور قومی مسائل کے حل کے لیے متفقہ لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے