اسلام آباد (کیو این این ورلڈ): وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں دہشتگردی کا موجودہ سلسلہ صوبے کے سیاسی مسائل یا مقامی معاملات سے متعلق نہیں بلکہ یہ پاکستان کے خلاف بیرونی عناصر کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں اور متعدد دہشتگردوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام "نیا پاکستان” میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ بلوچستان میں فوج، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور پولیس پر مشتمل قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی فورسز دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہیں اور بڑی تعداد میں دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا جا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں سرگرم کالعدم تنظیموں کا صوبے کے سیاسی مطالبات یا عوامی مسائل سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے بقول یہ عناصر دہشتگردی کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رانا ثنا اللہ نے مانگی ڈیم کے قریب قائم پولیس چوکی پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں نے یہ کارروائی علاقے کو اندھیرے میں دھکیلنے اور آبی تنصیبات کو نقصان پہنچانے کے مقصد سے کی۔
وزیراعظم کے مشیر نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان میں ہونے والی دہشتگردی دراصل بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف ایک منظم مہم کا حصہ ہے، جبکہ افغانستان کو بطور پراکسی استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس حوالے سے شواہد عالمی فورمز پر پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ عالمی برادری کو صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔
رانا ثنا اللہ نے آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مقصد عام انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں بروقت انتخابات کا انعقاد آئینی اور قانونی تقاضا ہے اور کسی کو بھی جمہوری عمل سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب سکیورٹی ذرائع کے مطابق مانگی ڈیم پولیس اسٹیشن پر دہشتگرد حملے کے بعد شروع کیے گئے "آپریشن شعبان” اور دیگر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کامیابی سے جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 17 دہشتگرد مارے گئے ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق 5 جولائی سے جاری آپریشن شعبان اور دیگر کارروائیوں کے دوران اب تک مجموعی طور پر 91 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ مختلف علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہیں۔