بھارت میں پابندی کے باوجود ’’ستلج‘‘ کی نمائش جاری، شہریوں نے منی سنیما گھر بنا لیے

نئی دہلی (کیو این این ورلڈ): بھارتی حکومت کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر مبنی فلم ’’ستلج‘‘ پر پابندی عائد کیے جانے کے باوجود شہریوں نے مختلف مقامات پر فلم کی نمائش کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عوام نے فلم ڈاؤن لوڈ کرکے بڑے پردوں پر چلانا شروع کر دی ہے، جس کے باعث حکومتی پابندی مؤثر ثابت نہیں ہو سکی۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلم ’’ستلج‘‘ 3 جولائی کو ریلیز کی گئی تھی، تاہم محض دو روز بعد 5 جولائی کو اسے متعلقہ پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔ حکام نے اس اقدام کے لیے سیکیورٹی خدشات کو بنیاد بنایا، جس کے بعد فلم کی نمائش پر پابندی اور اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق ایک نئی بحث چھڑ گئی۔

رپورٹس کے مطابق فلم پر پابندی کے باوجود مختلف شہروں اور قصبوں میں شہریوں نے غیر رسمی سطح پر منی سنیما گھر قائم کر لیے ہیں، جہاں بڑی اسکرینوں پر فلم دکھائی جا رہی ہے۔ متعدد مقامات پر فلم بینوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی جبکہ بعض علاقوں میں نمائش کے دوران ہاؤس فل کی صورتحال بھی دیکھی گئی۔

فلم میں مرکزی کردار ادا کرنے والے معروف پنجابی گلوکار اور اداکار دلجیت دوسانجھ نے پابندی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ لوگ فلم ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں، اس لیے اب اسے دبانا ممکن نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی آوازوں کو دبانے کی کوشش کی گئی لیکن موجودہ دور میں معلومات اور مواد کو مکمل طور پر روکنا آسان نہیں۔

فلم ’’ستلج‘‘ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی جدوجہد پر مبنی ہے، جنہوں نے بھارتی پنجاب میں 1980 اور 1990 کی دہائی کے دوران مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے معاملات کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی تھی۔ مختلف رپورٹس کے مطابق جسونت سنگھ کھالڑا کو بعد ازاں اغوا کیا گیا اور مبینہ طور پر قتل کر دیا گیا تھا۔

فلم پر پابندی اور اس کے باوجود جاری عوامی نمائش نے بھارت میں اظہارِ رائے، انسانی حقوق اور سنسرشپ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے