لنڈی کوتل (کیو این این ورلڈ /نامہ نگار): ضلع خیبر کی اقلیتی برادری کے نمائندوں نے حکومتِ پاکستان، حکومتِ خیبر پختونخوا، متعلقہ سرکاری اداروں، اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں، ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں سے مطالبہ کیا ہے کہ سابقہ فاٹا بالخصوص ضلع خیبر میں آباد اقلیتی برادری کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔
ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل میں منعقدہ "میٹ دی پریس” پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے اقلیتی رہنماؤں نے کہا کہ ضلع خیبر کی اقلیتی برادری گزشتہ کئی برسوں سے بنیادی سہولیات کی کمی، رہائش کے مسائل، صاف پانی کی عدم دستیابی، تعلیمی و طبی سہولیات کے فقدان اور بے روزگاری جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے، جس کے باعث ان کی سماجی اور معاشی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔
مقررین نے مطالبہ کیا کہ اقلیتی خاندانوں کے لیے خصوصی ہاؤسنگ اسکیمیں اور رہائشی کالونیاں قائم کی جائیں، صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے اور نوجوانوں کو باعزت روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ووکیشنل و ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹرز قائم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپیوٹر، سولر ٹیکنالوجی، الیکٹریشن، موبائل ریپئرنگ، سلائی کڑھائی اور دیگر فنی شعبوں میں تربیت فراہم کرکے نوجوانوں کو خود کفیل بنایا جا سکتا ہے۔
اقلیتی رہنماؤں نے مزید کہا کہ اقلیتی طلبہ کے لیے تعلیمی وظائف میں اضافہ کیا جائے، اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جائیں اور سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے مختص کوٹے پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے بنیادی مراکز صحت کی بہتری، سڑکوں کی تعمیر و مرمت، بجلی، سیوریج، صفائی ستھرائی اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی کا بھی مطالبہ کیا۔
میٹ دی پریس کے دوران مقررین نے رجسٹرڈ اقلیتی تنظیموں کے بینک اکاؤنٹس کھولنے میں درپیش رکاوٹوں کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں سمیت فیصلہ سازی کے مختلف مراحل میں اقلیتی برادری کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر سابق وفاقی وزیر و سینیٹر ڈاکٹر پیر نورالحق قادری، صوبائی وزیر اوقاف عدنان قادری، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون سہیل آفریدی، فوکل پرسن وزیرزادہ، امین عنایت اور دیگر شخصیات کی خدمات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی گئی کہ وہ مستقبل میں بھی اقلیتی برادری کے مسائل کے حل اور فلاح و بہبود کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
مقررین نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ اقلیتی برادری کے جائز مطالبات پر ہنگامی بنیادوں پر غور کرتے ہوئے عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ انہیں قومی ترقی کے دھارے میں مؤثر انداز میں شامل کیا جا سکے اور ان کے معیارِ زندگی میں بہتری لائی جا سکے۔