آبنائے ہرمز کشیدگی میں اضافہ، امریکا نے 80 سے زائد اہداف نشانہ بنا دیے

واشنگٹن/تہران (کیو این این ورلڈ)امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فضائی کارروائی کرتے ہوئے 80 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایران نے ان حملوں کو دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے "فیصلہ کن” اور "تباہ کن” جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔

سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی بحری جہازوں پر مبینہ ایرانی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ امریکی بیان میں کہا گیا ہے کہ حملوں کے دوران ایران کے فضائی دفاعی نظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورکس، ساحلی ریڈار تنصیبات، بحری جہاز شکن میزائل نظام اور پاسدارانِ انقلاب کی 60 سے زائد چھوٹی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی تجارتی راستوں کے خلاف ایران کی مبینہ جارحانہ صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔ سینٹ کام نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدوں کی خلاف ورزی جاری رہی تو امریکی افواج مزید اقدامات کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں گزشتہ ماہ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ تہران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اور فیصلہ کن اقدامات کرے گا۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق امریکی حملے قشم جزیرے، بندرعباس اور سرک کے علاقوں میں کیے گئے، جن کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔ ایرانی ذرائع کے مطابق بندرعباس کے فش پائر اور سرک کے تجارتی پائر کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں عام ماہی گیروں کی کشتیوں کو نقصان پہنچا۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز میں کسی بھی امریکی مداخلت کو قبول نہیں کرے گا اور امریکی حملوں کا "تباہ کن جواب” دیا جائے گا۔ ایرانی مشترکہ فوجی کمان نے بھی اعلان کیا ہے کہ امریکی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا اور آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے حوالے سے فیصلے ایران کی پالیسی کے مطابق ہوں گے۔

ادھر پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ صوبہ بوشہر کے علاقے خورموج کے قریب ایک امریکی ایم کیو-9 ڈرون مار گرایا گیا ہے، تاہم اس دعوے پر امریکی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

علاقائی کشیدگی کے تناظر میں خلیجی ممالک نے بھی حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔ کویتی فوج نے بتایا ہے کہ وہ میزائل اور ڈرون حملوں کے ممکنہ خطرات کا مؤثر جواب دے رہی ہے اور شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تلقین کی گئی ہے، جبکہ بحرین میں فضائی خطرے کے پیش نظر سائرن بجا دیے گئے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی گئی۔

دریں اثنا قطر نے آبنائے ہرمز کے قریب قطری ٹینکر پر مبینہ حملے کے معاملے پر ایران کے نائب سفیر کو طلب کرکے احتجاج ریکارڈ کرایا، تاہم ایران نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں حیران کن قرار دیا اور کہا کہ تہران آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں اور جوابی فوجی کارروائیوں کے باعث خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے