لاہور (کیو این این ورلڈ) صوبائی دارالحکومت میں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا، مبینہ جنسی زیادتی، تشدد اور بھتہ خوری کے مقدمے میں نیا موڑ آگیا ہے، جہاں پہلی خاتون کے بعد اب دوسری متاثرہ غیر ملکی خاتون اسٹیفنی ایڈرائنا کا مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کروایا گیا تحریری بیان بھی منظر عام پر آگیا ہے۔ متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں مبینہ مرکزی ملزم رضا ڈار اور اس کے ساتھیوں کے ہولناک ہتھکنڈوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔
متاثرہ غیر ملکی خاتون اسٹیفنی ایڈرائنا نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان حلفی میں بتایا کہ ان کی رضا ڈار سے سنگاپور میں ایک کرپٹو کرنسی ایونٹ کے دوران ملاقات ہوئی تھی، جہاں انہوں نے رضا ڈار پر اعتماد کرتے ہوئے اس کے ساتھ مل کر کاروبار شروع کیا۔ خاتون کے مطابق رضا ڈار ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا تھا کہ وہ پاکستان کے منسٹر علی ڈار کا بیٹا ہے، اور اس کے واٹس ایپ پر پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم کے ساتھ تصویر بھی لگی ہوئی تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے اس کے ساتھ مستعدی سے کام کیا۔
خاتون نے اپنے بیان میں قید کے دوران کے ہولناک لمحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں موجود لوگ انہیں کانچ دکھا کر اس کے ذریعے جسم کے ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں دیتے رہے، جبکہ رضا ڈار نے ان کے فون سے تمام کانٹیکٹس کو رقم کے لیے پیغامات بھیجے مگر کہیں سے جواب نہ ملا۔ آخری روز ملزم نے کہا کہ اس نے ساری رقم حاصل کر لی ہے اور اب وہ آزاد ہیں۔ بعد ازاں ملزم انہیں کار میں بٹھا کر ایئرپورٹ لے جا رہا تھا اور فون پر کسی سے کہہ رہا تھا کہ "باس کی ہدایات کچھ اور ہیں”، اسی دوران گاڑی ایک جگہ ٹکرائی تو انہوں نے کار سے چھلانگ لگا دی اور شور مچایا جس پر وہاں موجود لوگوں نے ٹریفک پولیس کو بلایا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں نے انہیں ایئرپورٹ لے جانے کا کہہ کر گاڑی میں بٹھایا لیکن راستے میں گاڑی خراب ہونے کا بہانہ بنا کر روک دی، جس پر وہ وہاں سے بھی بھاگ کھڑی ہوئیں۔ بعد ازاں ایک اور پولیس موبائل آئی جس میں خاتون اہلکار بھی موجود تھیں، جس کے بعد وہ خود کو محفوظ تصور کرنے لگیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل اسپین سے تعلق رکھنے والی 40 سالہ متاثرہ خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کا بیان بھی سامنے آچکا ہے، جس میں انہوں نے پہلی رات ہی مسلح افراد کی جانب سے باندھے جانے، چہرے پر گھونسے مارنے، پستول کے بٹ مارنے اور برہنہ کر کے متعدد بار زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے انتہائی دلدوز انکشافات کیے تھے۔
دوسری جانب اس ہائی پروفائل کیس پر سیاسی حلقوں میں بھی شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے قریبی رشتے دار (مبینہ نواسے) پر غیر ملکی خواتین کو پاکستان بلا کر مبینہ جنسی زیادتی، تشدد اور بھتہ خوری کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس کے بعد متعلقہ غیر ملکی سفارتخانے کی مداخلت پر ملزمان کی گرفتاری عمل میں آئی۔
فیصل واوڈا نے الزام عائد کیا کہ حکومت اس مبینہ واقعے کو دبانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے اور کیس کو جنسی زیادتی کے بجائے محض بھتہ خوری تک محدود کرنے اور مظلوم خواتین کو جلد از جلد واپس بھیجنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس شرمناک واقعے کے بعد اسحاق ڈار فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں کیونکہ اس نوعیت کے الزامات کے بعد وہ دنیا کے سامنے پاکستان کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ یاد رہے کہ پولیس نے گزشتہ روز کارروائی کرتے ہوئے اس سلسلے میں رضا ڈار سمیت 4 ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے کاروباری شراکت دار خواتین کو پاکستان بلا کر مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔