گمس ہسپتال میں ادویات کی مبینہ عدم فراہمی، انتظامی غفلت پر نوٹس اور جامع آڈٹ کا مطالبہ

گھوٹکی (کیو این این ورلڈ / نامہ نگار مشتاق علی لغاری) گھوٹکی کے رہائشی محبوب کورائی نے گمبٹ میں قائم گمس ہسپتال کی طبی سہولیات، ادویات کی فراہمی، علاج کے معیار اور انتظامی امور پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ سندھ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری نوٹس لینے اور شفاف تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محبوب کورائی نے دعویٰ کیا کہ گمس ہسپتال میں دور دراز علاقوں سے آنے والے غریب اور مستحق مریضوں کا او پی ڈی میں معائنہ تو کیا جاتا ہے، تاہم ان کے بقول اکثر مریضوں کو ضروری ادویات ہسپتال سے فراہم نہیں کی جاتیں، جس کے باعث وہ نجی میڈیکل اسٹورز سے مہنگے داموں دوائیں خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس صورتحال سے مالی مشکلات کا شکار مریض اور ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔

محبوب کورائی نے مزید دعویٰ کیا کہ ہسپتال کی انتظامیہ کے بعض فیصلوں، علاج کے معیار اور خصوصاً لیور ٹرانسپلانٹ سے متعلق معاملات پر ماضی میں بھی مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض مقدمات عدالتوں میں بھی زیرِ سماعت ہیں، اس لیے ان تمام معاملات کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ گمس ہسپتال میں ادویات کی دستیابی، مریضوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات، علاج کے معیار، انتظامی کارکردگی اور مالی و انتظامی امور کا جامع آڈٹ کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی قسم کی غفلت، بے ضابطگی یا بدانتظامی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے، جبکہ عوام کو معیاری اور مفت طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

محبوب کورائی نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیرِ صحت، سیکریٹری صحت، محکمہ صحت سندھ، متعلقہ ضلعی انتظامیہ، احتسابی اداروں اور دیگر ذمہ دار حکام سے اپیل کی کہ عوامی شکایات کا فوری نوٹس لیتے ہوئے حقائق کی مکمل چھان بین کی جائے اور اگر شکایات درست ثابت ہوں تو اصلاحی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں مریضوں کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

نوٹ: اس خبر کی اشاعت سے قبل گمس ہسپتال کی انتظامیہ، متعلقہ ڈاکٹروں اور دیگر ذمہ دار حکام سے ان کا مؤقف لینے کی کوشش کی گئی، تاہم خبر کی اشاعت تک ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہو سکا۔ کیو این این ورلڈ صحافتی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ جیسے ہی انتظامیہ یا متعلقہ حکام کا مؤقف موصول ہوگا، اسے من و عن اور اسی اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا تاکہ خبر کے دونوں پہلو قارئین کے سامنے آ سکیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے