میہڑ: پولیس کے خلاف شہریوں کا احتجاج، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کا الزام

میہڑ (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار منظور علی جوئیہ) میہڑ کے نواحی گاؤں گنجا کے رہائشی مردوں، خواتین اور بچوں نے مبینہ پولیس کارروائی کے خلاف میہڑ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج کرنے والوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ رات میہڑ اے سیکشن تھانے کے ایس ایچ او مظہر نائچ اور ون فائیو انچارج امداد سہول پولیس نفری کے ہمراہ گاؤں گنجا پہنچے، جہاں انہوں نے ان کے گھر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی۔ مظاہرین کے مطابق پولیس اہلکار مبینہ طور پر ایک لاکھ روپے نقد، سونے کے زیورات، کاغذات سمیت ایک موٹرسائیکل، بیٹری، سولر پلیٹیں اور دیگر گھریلو سامان بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

احتجاج میں احمد علی جھتیال، صفوراں، راشدہ، سبائی اور دیگر اہلِ خانہ، خواتین اور معصوم بچوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر احمد علی نے الزام عائد کیا کہ تقریباً ایک ماہ قبل ون فائیو انچارج نے ان کے بیٹے امتیاز سیال کو گرفتار کیا تھا اور مبینہ طور پر 60 ہزار روپے لینے کے بعد اسے رہا کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا محنت مزدوری کرتا ہے اور گدھا گاڑی چلا کر اپنے بچوں کا رزق کماتا ہے، لیکن پولیس بلاجواز انہیں ہراساں کر رہی ہے۔

مظاہرین نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی حیدرآباد اور ایس پی دادو سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا نوٹس لے کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور غریب محنت کش خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

نوٹ: خبر میں شامل پولیس کے خلاف الزامات مظاہرین کے بیانات پر مبنی ہیں، جن کی متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال باضابطہ تصدیق یا مؤقف سامنے نہیں آیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے