گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) ضلع گھوٹکی میں مبینہ سود خوری کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شہریوں اور متاثرین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ سودی لین دین کے باعث متعدد خاندان شدید مالی بحران کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ کئی افراد اپنی جمع پونجی، جائیداد اور دیگر قیمتی اثاثوں سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔
متاثرہ شہریوں کے مطابق سودی کاروبار میں ملوث بعض افراد معمولی قرض کے بدلے کئی گنا زیادہ رقم وصول کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں قرض لینے والے افراد مسلسل مالی دباؤ کا شکار رہتے ہیں اور ان کے لیے قرض کی ادائیگی ناممکن ہو جاتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
متاثرین نے دعویٰ کیا کہ سودی لین دین کے باعث متعدد افراد اپنی زمینیں، مکانات، گاڑیاں اور دیگر قیمتی سامان گنوا چکے ہیں، جبکہ کئی خاندان قرضوں کے بوجھ تلے معاشی بدحالی اور ذہنی اذیت کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول بعض افراد شدید ذہنی دباؤ کے باعث انتہائی اقدامات کرنے پر بھی مجبور ہوئے۔
شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ ضلع گھوٹکی میں مبینہ سود خوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے، اس کاروبار کی مکمل تحقیقات کر کے ذمہ دار افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ شہریوں کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو سود خوری کے باعث مزید خاندان معاشی تباہی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے قانون کے مطابق سخت کارروائی کریں تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔