ایپسٹین رازوں سے پردہ اٹھے گا؟ امریکی عدالت نے محکمہ انصاف کو حکم جاری کر دیا

واشنگٹن (کیو این این ورلڈ)امریکی میڈیا کے مطابق امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے محکمہ انصاف (DOJ) کو بدنام زمانہ سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے ملزم جیفری ایپسٹین سے متعلق مزید غیر سنسر شدہ (Unredacted) دستاویزات جاری کرنے یا پھر 2 جولائی تک عدالت کو یہ وضاحت پیش کرنے کا حکم دیا ہے کہ وہ یہ ریکارڈ کیوں جاری نہیں کر سکتا۔

رپورٹس کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کی وفاقی ضلعی عدالت کے جج ایمیٹ سلیوان نے یہ حکم صحافی اور قانونی تجزیہ کار کیٹی فینگ کی درخواست پر جاری کیا، جنہوں نے عدالت سے مؤقف اختیار کیا تھا کہ امریکی محکمہ انصاف گزشتہ سال منظور ہونے والے Epstein Act پر مکمل عمل درآمد کرنے میں ناکام رہا ہے اور کئی اہم دستاویزات اب بھی عوام سے پوشیدہ رکھی جا رہی ہیں۔

عدالتی حکم میں محکمہ انصاف کو ہدایت کی گئی ہے کہ یا تو مزید غیر سنسر شدہ ریکارڈ جاری کیا جائے یا پھر مقررہ تاریخ تک عدالت کو تحریری طور پر بتایا جائے کہ یہ معلومات کیوں خفیہ رکھی جا رہی ہیں۔

امریکی میڈیا کے مطابق محکمہ انصاف اب تک ایپسٹین کیس سے متعلق تقریباً 35 لاکھ صفحات پر مشتمل ریکارڈ جاری کر چکا ہے، تاہم درخواست گزار کیٹی فینگ کا مؤقف ہے کہ اس کے باوجود متعدد اہم دستاویزات یا تو روک لی گئی ہیں یا ان کے اہم حصوں کو سیاہ کر کے (Redact) شائع کیا گیا ہے، جو قانون کی روح کے منافی ہے۔

درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ محکمہ انصاف نے ایپسٹین اور دیگر افراد کے درمیان ہونے والی کم از کم آٹھ ای میل گفتگوؤں میں بھیجنے اور وصول کرنے والوں کے نام حذف کر دیے۔ ان ای میلز میں مبینہ طور پر ایک مبینہ "ٹارچر ویڈیو” اور کم عمر لڑکیوں سمیت نوجوان خواتین سے متعلق جنسی سرگرمیوں کا ذکر موجود ہے۔

کیٹی فینگ نے اپنی درخواست میں مزید دعویٰ کیا ہے کہ قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانش نے ایپسٹین کے خلاف تیار کیے گئے ایک ابتدائی فردِ جرم (Draft Indictment) سے شریک ملزمان اور مبینہ سازشی افراد (Co-conspirators) کے نام بھی حذف کر دیے ہیں۔

درخواست میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ محکمہ انصاف نے 36 ایسی دستاویزات بھی منظرعام پر نہیں لائیں جن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ذکر موجود ہے۔ ان میں ایف بی آئی کے ایک متاثرہ خاتون کے انٹرویو کے نوٹس بھی شامل ہیں، جس میں خاتون نے دعویٰ کیا تھا کہ 1980 کی دہائی میں، جب وہ تقریباً 13 سال کی تھیں، جیفری ایپسٹین نے ان کا تعارف ڈونلڈ ٹرمپ سے کرایا تھا، جس کے بعد ان پر مبینہ جنسی حملہ کیا گیا۔

تاہم امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں اور ایپسٹین کیس کے سلسلے میں ان پر کسی جرم کی فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

دوسری جانب امریکی محکمہ انصاف نے عدالت میں جمع کرائے گئے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ کیٹی فینگ کو یہ مقدمہ دائر کرنے کے بجائے فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ (FOIA) کے تحت معلومات طلب کرنی چاہیے تھیں، تاہم درخواست گزار کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ایپسٹین فائلوں سے متعلق ان کی سابقہ FOIA درخواستیں مسترد کر دی گئی تھیں، جس کے بعد عدالت سے رجوع کرنا ناگزیر ہو گیا۔

تاحال امریکی محکمہ انصاف نے عدالتی حکم پر کوئی باضابطہ ردعمل جاری نہیں کیا۔

مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے