جنگ بندی، اسرائیلی انخلا اور حزب اللہ کے مسئلے پر اختلافات برقرار، بیروت اور تل ابیب کے درمیان بات چیت کا نیا دور
لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک نئے دور کے مذاکرات آج منگل کے روز واشنگٹن میں شروع ہو رہے ہیں، جنہیں خطے میں جاری کشیدگی اور امریکا-ایران ممکنہ معاہدے کے پس منظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
لبنانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات ہی خطے میں مارچ 2 سے جاری جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ ہیں۔ تاہم اب تک اپریل سے ہونے والے چار دور کے مذاکرات کوئی پائیدار جنگ بندی حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ان مذاکرات سے قبل صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب ایران اور امریکا کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت طے پائی، جس کے تحت تمام محاذوں پر لڑائی روکنے کی بات کی گئی، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ اس پیش رفت کو ایران نواز حزب اللہ کے لیے ایک مثبت اور لبنانی ریاست کے لیے ایک مشکل صورتحال قرار دیا جا رہا ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون سمیت اعلیٰ حکام پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ایران لبنان کی جانب سے مذاکرات نہیں کر سکتا، تاہم تازہ صورتحال نے بیروت کی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
ایک لبنانی عہدیدار اور دو غیر ملکی حکام کے مطابق امریکا-ایران معاہدے نے لبنانی ریاست کی سفارتی گنجائش کو متاثر کیا ہے اور اس کے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی افادیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ عہدیدار کے مطابق مذاکرات میں کسی بڑی پیش رفت کا امکان کم ہے کیونکہ دونوں فریقین کے درمیان بنیادی اعتماد کا شدید فقدان موجود ہے۔
لبنان کا مؤقف ہے کہ اس کی اہم ترین شرط اسرائیلی افواج کا انخلا ہے، جبکہ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی فوجیں جنوبی لبنان سے غیر معینہ مدت تک موجود رہ سکتی ہیں۔ لبنانی وفد مذاکرات میں ایک واضح اور “معقول” انخلا کا ٹائم ٹیبل حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور ایک حقیقی امن معاہدے کی طرف بڑھنا ہے۔ اسرائیلی حکومتی ترجمان کے مطابق جب تک حزب اللہ موجود ہے، مکمل امن ممکن نہیں۔
حزب اللہ نے مکمل غیر مسلح ہونے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے حکومت سے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس وقت دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا شدید بحران ہے اور امریکا-ایران معاہدے کے باوجود کوئی واضح ساختی تبدیلی نظر نہیں آ رہی جو مذاکرات کو کامیابی کی طرف لے جا سکے۔
یہ مذاکرات تین دن تک جاری رہنے کی توقع ہے، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر ان کے نتائج غیر یقینی قرار دیے جا رہے ہیں۔