امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر عملدرآمد کے لیے طے شدہ مذاکرات نہ ہو سکے

امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر عملدرآمد کے لیے طے شدہ مذاکرات نہ ہو سکے
تفصیلات کے مطابق سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جمعہ کے روز برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہونے والے مجوزہ مذاکرات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ یہ مذاکرات حال ہی میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی اور امن معاہدے پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بات چیت کے لیے منعقد ہونا تھے۔

سوئس حکام کے مطابق ابتدائی منصوبے کے تحت امریکا اور ایران کے نمائندوں کے علاوہ پاکستان، قطر اور دیگر ثالث ممالک کے نمائندے بھی مذاکراتی عمل میں شریک ہونے والے تھے۔ تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دورۂ سوئٹزرلینڈ کی منسوخی کے اعلان کے بعد یہ ملاقات بھی منسوخ کر دی گئی۔

یاد رہے کہ چند روز قبل امریکا اور ایران نے ایک مفاہمتی یادداشت (MoU) پر اتفاق کیا تھا، جس کا مقصد جاری جنگ کا خاتمہ اور آئندہ 60 روز کے دوران اہم تنازعات، بالخصوص ایران کے جوہری پروگرام اور پابندیوں سے متعلق معاملات پر مزید مذاکرات کا آغاز تھا۔

تاحال مذاکرات کی منسوخی کی باضابطہ وجہ سامنے نہیں آئی، تاہم امریکی حکام نے جے ڈی وینس کے دورے کی منسوخی کی تصدیق کی ہے، جس کے بعد امن عمل کے اگلے مرحلے کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے