بین الاقوامی امور (کیو این این ورلڈ) امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخی امن معاہدے (اسلام آباد اکارڈ) کا ترکیے، قطر، فرانس، جرمنی اور اٹلی سمیت عالمی برادری نے زبردست خیرمقدم کیا ہے۔ ترکیے، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے اپنے مشترکہ بیان میں ایران کے جوہری پروگرام پر اپنے پرانے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے واضح، عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات کی صورت میں ہی اس پر عائد پابندیوں میں مرحلہ وار نرمی پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ان ممالک نے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم ترین سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز کو فوری اور غیر مشروط طور پر کھولنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سمندری راستوں کی بلا تعطل دستیابی خطے اور دنیا کے معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے تمام فریقوں کو تحمل اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرنا ہوگی۔
دوسری جانب، ترک صدر رجب طیب اردگان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ وہ خلوصِ دل سے امید کرتے ہیں کہ یہ خبر، جس کی پوری دنیا کو طویل عرصے سے ضرورت تھی، خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کے ماحول کے قیام کا ذریعہ بنے گی۔ ترک صدر نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ سوئٹزرلینڈ میں معاہدے پر باقاعدہ دستخط سے قبل ایسے بیانات، اشتعال انگیزیوں اور اقدامات سے سخت گریز کریں جو کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتے ہوں، جبکہ تمام متعلقہ فریقوں کو ممکنہ تخریب کاری یا امن عمل کو نقصان پہنچانے کی کوششوں کے خلاف بھی ہوشیار اور محتاط رہنا چاہئے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ترکیہ اس مقصد کے حصول کے لیے جاری سفارتی اور سیاسی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ ادھر قطری وزیراعظم نے بھی ایکس پر اپنے بیان میں معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان تمام علاقائی و بین الاقوامی فریقوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے سازگار حالات پیدا کیے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ تمام فریق آئندہ ہونے والے مذاکرات میں مثبت اور تعمیری انداز اپنائیں گے۔
اسی دوران، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران سے معاہدے کے کامیاب اعلان پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اشارہ کیا کہ یہ تاریخی پیش رفت صدر ٹرمپ کی سالگرہ کے موقع کے ساتھ بھی مطابقت رکھتی ہے، اس لیے اس اہم سفارتی کامیابی پر صدر کو سراہا جانا چاہیے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ بعض حلقوں میں اس معاہدے کے تمام پہلوؤں پر مکمل اتفاق کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی نمائندہ کمبرلی ہالکیٹ کے مطابق، بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اعلان صدر ٹرمپ کی جانب سے سیاسی طور پر پیش کی جانے والی تصویر بھی ہو سکتا ہے جس کے بارے میں ابھی مکمل یقین سے کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
تاہم، امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے اس پیش رفت کا بھرپور خیرمقدم کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو سراہا ہے۔ جے ڈی وینس نے فاکس نیوز کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں کہا کہ صدر ٹرمپ نے خلیجی ممالک اور علاقائی اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس معاہدے کے لیے حقیقی سیاسی اور سفارتی گنجائش پیدا کی ہے، جس سے خطے میں بڑی تبدیلی ممکن ہو گی اور اب امید ہے کہ ایرانیوں کے ساتھ ایک نیا دور شروع ہو گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ اس بات پر مکمل پر اعتماد ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکے گا جو امریکی پالیسی کا بنیادی اور مستقل مؤقف رہا ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ اس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہو گی۔ نائب صدر نے بتایا کہ وہ خود آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی دستخطی تقریب میں شریک ہوں گے، جبکہ یہ بھی قوی امکان ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی خود اس تاریخی موقع پر وہاں موجود ہوں۔