تہران (کیو این این ورلڈ) امریکہ اور پاکستان کے بعد اب اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی امریکہ کے ساتھ تاریخی امن معاہدے پر مکمل اتفاق کی باقاعدہ تصدیق کر دی ہے۔ نائب ایرانی وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے تہران میں اہم بیان جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) کا متن مکمل طور پر حتمی کر دیا گیا ہے اور اعلیٰ قیادت نے اس کی منظوری دے دی ہے۔
نائب ایرانی وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس تاریخی امن معاہدے کو "اسلام آباد اکارڈ” کا نام دیا گیا ہے، جس پر باقاعدہ دستخط رواں ہفتے جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ تقریب کے دوران کیے جائیں گے۔ انہوں نے اپنے مؤقف پر سختی سے قائم رہتے ہوئے یہ تنبیہ بھی کی کہ اگر کسی بھی فریق کی جانب سے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو ایران اپنے دفاع اور حقوق کے تحفظ کے لیے خود سخت اقدامات اٹھانے کا پورا حق رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی واشنگٹن میں تصدیق کی تھی کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ مکمل ہو چکا ہے۔ امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر اپنی عسکری کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے پر اتفاق کیا ہے، جس کے تحت اب اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو فوری اور مستقل طور پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھول دیا گیا ہے اور امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی فی الفور ختم کر رہا ہے۔
امریکی صدر نے دنیا بھر کو اس تاریخی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے بند راستے اب مکمل طور پر کھل چکے ہیں اور دنیا کے بحری جہاز اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہو سکتے ہیں۔ بین الاقوامی سیاسی حلقوں میں اس معاہدے کو "اسلام آباد اکارڈ” کا نام دیے جانے اور پاکستان کے کلیدی کردار کو عالمی سطح پر مڈل ایسٹ میں امن کی بحالی کے لیے ایک بہت بڑا سفارتی معرکہ قرار دیا جا رہا ہے۔