لندن (کیو این این ورلڈ) برطانوی وزیراعظم نے امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کا گرمجوشی سے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مشرقِ وسطیٰ میں طویل جنگ کے خاتمے اور عالمی استحکام کی بحالی کی جانب ایک انتہائی اہم اور مثبت قدم قرار دیا ہے۔
اپنے ایک خصوصی بیان میں برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس عالمی معاہدے کا دل کھول کر خیرمقدم کرتے ہیں، جس کے تحت دونوں فریقین نے طویل کشیدگی کا خاتمہ کرنے اور مختلف فعال محاذوں پر اپنی تمام عسکری کارروائیاں مستقل طور پر روکنے پر مکمل اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ پیش رفت دنیا کو ایک بڑے سفارتی بحران سے نکالنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
برطانوی وزیراعظم نے امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ فوری طور پر کھولنے اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کے فیصلے کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عالمی معیشت کے استحکام اور دنیا بھر میں خام تیل کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے انتہائی ناگزیر تھا۔
انہوں نے اس پیچیدہ اور تاریخی امن معاہدے کو ممکن بنانے کے لیے پسِ پردہ اور سفارتی محاذ پر کلیدی و مخلصانہ ثالثی کا عمل سرانجام دینے والے ممالک پاکستان، قطر اور دیگر برادر ممالک کے کردار کو زبردست الفاظ میں سراہا اور ان کی کوششوں کی کھل کر تعریف کی۔ واضح رہے کہ اس تاریخی امن معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہونے جا رہی ہے۔