اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئندہ مالی سال کے لیے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کر دیا۔ بجٹ تقریر میں معاشی استحکام، ٹیکس اصلاحات، ترقیاتی منصوبوں اور عوامی ریلیف کو مرکزی حیثیت دی گئی۔
وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کرنے کو اعزاز قرار دیتے ہوئے اتحادی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، زرمبادلہ ذخائر 17 ارب ڈالر سے بڑھ چکے ہیں اور مالیاتی خسارہ 7.8 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد تک آنے کی توقع ہے۔
انہوں نے دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ جبکہ کم از کم اجرت میں 10 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔ بی آئی ایس پی کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی بھی تجویز ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس میں ریلیف دیا گیا ہے جبکہ مختلف آمدنی سلیبس پر ٹیکس کی شرح میں کمی اور سپر ٹیکس میں نرمی کی تجاویز شامل ہیں۔ چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کے لیے 3 ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ انفراسٹرکچر، توانائی، صحت، تعلیم اور آبی منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ دیامر بھاشا، مہمند اور داسو ڈیم سمیت اہم منصوبوں کے لیے اربوں روپے رکھے گئے ہیں۔
آئی ٹی برآمدات، صنعتی ترقی، ہاؤسنگ اور شہری ترقی کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ خواتین کی صحت اور ضروری طبی اشیاء پر ٹیکس ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
وفاقی حکومت نے مجموعی آمدنی، اخراجات اور ٹیکس اہداف کے ساتھ مالی نظم و ضبط بہتر بنانے اور معیشت کو مستحکم ترقی کی راہ پر ڈالنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔