اسلام آباد (کیو این این ورلڈ/ نامہ نگار) سابق سینیٹر تاج محمد آفریدی اسلام آباد سے پشاور جاتے ہوئے ایک المناک اور موٹر وے پر پیش آنے والے اندوہناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ان کے اچانک انتقال کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی جس کے بعد ضلع خیبر سمیت پورے ملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں گہرے دکھ، رنج اور افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے۔
مرحوم تاج محمد آفریدی کا تعلق ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کے ایک انتہائی معزز، بااثر کاروباری اور سیاسی خاندان سے تھا۔ وہ سابق پارلیمانی لیڈر شاہ جی گل آفریدی کے بھائی تھے اور اپنی گراں قدر سیاسی، سماجی اور کاروباری خدمات کے باعث قبائلی اضلاع سمیت پورے صوبے میں ایک منفرد اور نمایاں مقام رکھتے تھے۔
سیاسی سفر کے حوالے سے دیکھا جائے تو سینیٹر تاج محمد آفریدی مارچ 2015 سے مارچ 2021 تک سینیٹ آف پاکستان کے رکن رہے، جہاں انہوں نے سابقہ فاٹا اور موجودہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کی بھرپور اور توانا انداز میں نمائندگی کی۔ انہوں نے سینیٹ میں ہمیشہ پسماندہ طبقات کے حقوق اور قبائلی عوام کے مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کی۔
مرحوم ایک نہایت ملنسار، شفیق، مخلص اور عوام دوست شخصیت کے مالک تھے جو ہر خاص و عام سے انتہائی خندہ پیشانی، عاجزی اور احترام کے ساتھ ملتے تھے۔ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ عوام کے مسائل سننے اور انہیں حل کرنے کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے، ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں ہو سکے گا۔