ماں بہن‘: ہنسی، سسپنس اور تلخ سماجی حقیقتوں کا منفرد امتزاج

ممبئی (کیو این این ورلڈ) نیٹ فلکس کی نئی فلم ماں بہن محض ایک ڈارک کامیڈی یا سسپنس ڈراما نہیں بلکہ خواتین کے بارے میں معاشرے کے دہرے معیار، اخلاقی نگرانی اور کردار کشی پر مبنی ایک فکر انگیز اور طنزیہ پیشکش بن کر سامنے آئی ہے۔ فلم میں مادھوری ڈکشٹ اور ترپتی ڈمری نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔

فلم کی کہانی اس تلخ حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کو اکثر الزام، تنقید اور شکوک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ فلم کا عنوان بھی کئی معنی رکھتا ہے۔ ایک طرف یہ روزمرہ زبان میں استعمال ہونے والی ایک عام گالی کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب خواتین کے احترام کے حوالے سے استعمال ہونے والے جملے ’’گھر میں ماں بہن نہیں ہیں کیا؟‘‘ کو بھی یاد دلاتا ہے۔

فلم میں مادھوری ڈکشٹ نے ریکھا نامی ایک بیوہ خاتون کا کردار ادا کیا ہے، جسے محلے والے صرف اس لیے مشکوک اور قابل اعتراض سمجھتے ہیں کہ وہ شوہر کی وفات کے بعد بھی اپنی شخصیت، لباس اور طرزِ زندگی تبدیل نہیں کرتی۔ اس کا خوداعتماد انداز اور خوش مزاجی معاشرتی تعصبات کا نشانہ بن جاتی ہے۔

کہانی میں ریکھا کی بیٹیاں سشما اور جیا بھی شامل ہیں، جو اپنی ماں کے بارے میں برسوں تک معاشرتی شکوک اور احساسِ شرمندگی کا شکار رہتی ہیں۔ ترپتی ڈمری نے سشما کے کردار میں ایک ایسی خاتون کی عکاسی کی ہے جو گھریلو ذمہ داریوں میں اپنی شناخت کھو بیٹھی ہے، جبکہ جیا ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کے طور پر آن لائن تنقید اور الزامات کا سامنا کرتی ہے۔

فلم اس نکتے کو نمایاں کرتی ہے کہ چاہے عورت روایتی گھریلو زندگی گزار رہی ہو یا جدید طرزِ زندگی اختیار کرے، معاشرہ اسے کسی نہ کسی خانے میں ڈال کر اس کے کردار کا فیصلہ سنانے کے لیے تیار رہتا ہے۔

کہانی اس وقت دلچسپ موڑ لیتی ہے جب آدھی رات کو دونوں بہنوں کو اپنی ماں کی ایک پریشان کن کال موصول ہوتی ہے، جس میں وہ انکشاف کرتی ہے کہ اس کے گھر میں ایک لاش موجود ہے۔ یہی واقعہ فلم کے مرکزی سسپنس کو جنم دیتا ہے اور ناظرین کو تجسس، مزاح اور تناؤ سے بھرپور سفر پر لے جاتا ہے۔

فلم میں طنز اور مزاح کے ذریعے اس سماجی منافقت کو بے نقاب کیا گیا ہے جس میں مردوں کی غلطیوں کو آسانی سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ خواتین کے معمولی رویوں کو بھی کردار کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔

ناقدین کے مطابق مادھوری ڈکشٹ اور ترپتی ڈمری کی مضبوط اداکاری، کاٹ دار مکالمے اور معاشرتی رویوں پر گہرا طنز اس فلم کو محض تفریح تک محدود نہیں رہنے دیتے بلکہ یہ ناظرین کو عورتوں کے بارے میں رائج تصورات اور دہرے معیاروں پر سنجیدگی سے غور کرنے پر بھی مجبور کرتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے