راولاکوٹ (کیو این این ورلڈ) جون کے مہینے میں راولاکوٹ میں آزاد کشمیر پولیس کے اہلکاروں پر پرتشدد حملے اور لاش کی بے حرمتی کی ایک ہوش ربا اور خوفناک ویڈیو منظر عام پر آئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کالعدم تنظیم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بلوائیوں نے راولاکوٹ میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سیدھی گولیاں چلائیں اور ایک شہید پولیس اہلکار کی لاش کی شدید بے حرمتی کی۔ اس گھناؤنے عمل سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مکروہ اور دہشتگردانہ چہرہ پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے۔

ذرائع اور شواہد کے مطابق، بھارتی اسپانسرڈ فتنہ الخوارج اس سے قبل کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حق میں بڑھ چڑھ کر اعلامیہ بھی جاری کر چکا ہے۔ دوسری طرف بیرون ملک بیٹھا پاکستان مخالف سوشل میڈیا نیٹ ورک بھی فیک نیوز اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) مواد کے ذریعے مسلسل گمراہ کن پروپیگنڈے میں مصروف ہے۔ بھارتی اور پاکستان مخالف غیر ملکی سوشل میڈیا ہینڈلز نے جس طرح کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو سپورٹ کیا، اس سے ان کے بیرونی روابط اور پاکستان دشمن عزائم کھل کر سامنے آ گئے ہیں، جبکہ گزشتہ 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر اس کمیٹی کے رہنماؤں کی دہشتگردانہ سوچ اور بھارتی بیانیہ بری طرح فلاپ ہو چکا ہے۔

سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق، احتجاج کی آڑ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر کیے گئے ان حملوں نے شرپسند عناصر کے مذموم اور تخریبی عزائم کو پوری طرح واضح کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لاشوں کی بے حرمتی جیسے مکروہ عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ ایکشن کمیٹی کا اسلامی روایات، انسانی اقدار اور اخلاقیات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ ماہرین نے مزید کہا کہ فتنہ الخوارج کا کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی حمایت میں کھل کر منظر عام پر آنا ان کے ہینڈلر بھارت کی شدید بے چینی کو ظاہر کرتا ہے، کیونکہ آزاد کشمیر میں انتشار اور بدامنی پھیلانے کی بھارتی کوششیں اب مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں۔
