اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) لبنان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل روڈولف ہیکل اہم سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ رہے ہیں۔ یہ دورہ ایک ایسے نازک وقت میں ہو رہا ہے جب لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں اور دوسری طرف پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں کو بحال کرنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے۔ لبنانی فوج کے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق جنرل روڈولف ہیکل پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر کی خصوصی دعوت پر پاکستان روانہ ہوئے ہیں، تاہم لبنانی فوج کی جانب سے فی الحال اس دورے کے دورانیے اور ملاقاتوں کے شیڈول کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
یہ دورہ اس لحاظ سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان اپریل کے وسط میں ہونے والی جنگ بندی اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ سے اب تک جاری اسرائیلی حملوں میں 3 ہزار 593 افراد ہلاک جبکہ 10…990 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان خطے میں اپنا فعال سفارتی کردار ادا کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان رابطوں اور کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں میں سرگرم ہے۔ مبصرین کے مطابق لبنان کی موجودہ صورتحال، ایران امریکا مذاکرات اور خطے کے دیگر تنازعات ایک دوسرے سے گہرے جڑے ہوئے ہیں۔
حال ہی میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ لبنان میں مستقل جنگ بندی ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کا اہم حصہ ہے۔ تاہم لبنان کے وزیراعظم نواف سلام نے ایران پر زور دیا ہے کہ جنوبی لبنان کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات میں سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔ یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل نے رواں سال 28 فروری کو ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں ریکارڈ اضافہ ہوا، جبکہ ایرانی حکام کے مطابق اس تنازع میں ایران میں تین ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تہران نے بھی امریکی و اسرائیلی اہداف کے خلاف جوابی حملے کیے۔
پاکستان کی مخلصانہ ثالثی کی بدولت ہی گزشتہ 8 اپریل کو عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی تھی، تاہم چند روز بعد مذاکرات دوبارہ تعطل کا شکار ہو گئے، جس کے بعد امریکا نے ایران کی بندرگاہوں خصوصاً آبنائے ہرمز کے قریب واقع تنصیبات پر پابندیاں اور دباؤ مزید بڑھا دیا۔ ادھر امریکا، لبنان اور اسرائیل نے حال ہی میں واشنگٹن میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کو مضبوط بنانے اور سرحدی کشیدگی کم کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق لبنانی آرمی چیف کا دورۂ پاکستان خطے میں جاری سفارتی سرگرمیوں اور مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے قیام کے لیے انتہائی کلیدی ثابت ہو سکتا ہے۔