تمباکو اور ویپنگ نوجوانوں کے مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ہیں: صدر مملکت

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) عالمی یومِ انسداد تمباکو نوشی کے موقع پر صدر مملکت Asif Ali Zardari نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کو تمباکو اور نکوٹین مصنوعات کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنا قومی اور اجتماعی ذمہ داری ہے، جبکہ تمباکو کی صنعت نئی نسل کو مختلف مصنوعات اور جدید مارکیٹنگ کے ذریعے نشانہ بنا رہی ہے۔

اپنے خصوصی پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ تمباکو کی مصنوعات صحت اور معیشت دونوں کے لیے سنگین خطرات کا باعث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اور آنے والی نسلوں کو تمباکو نوشی اور نکوٹین کی لت سے بچانے کے لیے مؤثر قانون سازی، سخت نفاذ اور بھرپور آگاہی مہمات ناگزیر ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ تمباکو کے صحت پر تباہ کن اثرات سے متعلق دنیا بھر میں دہائیوں سے سائنسی اور طبی اتفاقِ رائے موجود ہے۔ مختلف ممالک کی حکومتوں اور سول سوسائٹی نے تمباکو کے استعمال میں کمی کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، تاہم اس کے باوجود تمباکو نوشی آج بھی پاکستان سمیت دنیا بھر میں عوامی صحت اور معاشی فلاح و بہبود کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر تمباکو ہر سال لاکھوں افراد کی جانیں لے رہا ہے۔ سیکنڈ ہینڈ اسموک بھی بڑی تعداد میں اموات اور بیماریوں کا سبب بنتا ہے، جس سے اس مسئلے کی سنگینی مزید واضح ہوتی ہے۔

صدر مملکت نے خبردار کیا کہ بچے اور نوجوان تمباکو اور نکوٹین مصنوعات کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات ہیں۔ سگریٹ، ای سگریٹ، ویپنگ ڈیوائسز، نکوٹین پاؤچز اور دیگر مصنوعات نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہو رہی ہیں، جس سے ان میں عمر بھر کی لت اور مختلف بیماریوں کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کم عمری میں نکوٹین کا استعمال نہ صرف جسمانی اور ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے بلکہ نوجوانوں کے مستقبل کے مواقع بھی محدود کر دیتا ہے۔ اسی طرح سیکنڈ ہینڈ اسموک کے باعث بچے دمہ، نمونیا، کان کے انفیکشن، کم وزن پیدائش اور دیگر سنگین طبی مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوان نسل کو نشے کی لت میں مبتلا کرنے والوں اور "موت کے سوداگروں” کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاست، والدین، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط قوانین، مؤثر نگرانی اور وسیع پیمانے پر آگاہی ہی صحت مند اور محفوظ مستقبل کی ضمانت بن سکتے ہیں۔

کیو این این ورلڈ — مصدقہ خبریں، ذمہ دارانہ صحافت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے