اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)ملک بھر میں آج عیدالاضحیٰ مذہبی عقیدت و احترام اور روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منائی جا رہی ہے، جہاں لاکھوں مسلمان سنتِ ابراہیمی کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جانوروں کی قربانی پیش کر رہے ہیں۔ دن کا آغاز تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں کی مساجد، عید گاہوں، امام بارگاہوں اور کھلے میدانوں میں نمازِ عید کے روح پرور اجتماعات سے ہوا، جہاں امتِ مسلمہ کے اتحاد، مظلوم فلسطینی و کشمیری بہن بھائیوں کی نصرت، اور وطنِ عزیز پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی اور رقت آمیز دعائیں مانگی گئیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نمازِ عید کا سب سے بڑا اجتماع تاریخی شاہ فیصل مسجد میں منعقد ہوا، جبکہ سرائے مغل کے جامعہ محمودیہ ہنجرائے کلاں سمیت پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں صبح سویرے سے لے کر ساڑھے نو بجے تک نماز کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رہا۔ صوبائی وزیرِ تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات خان نے عید کی نماز اپنے آبائی گاؤں گلزار جاگیر میں ادا کی۔ نماز کے فوری بعد شہریوں نے ایک دوسرے کو گلے مل کر عید کی مبارکباد دی اور اپنے مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے قبرستانوں کا رخ کر کے فاتحہ خوانی کی۔
نمازِ عید سے فارغ ہوتے ہی ملک بھر میں اونٹوں، گائے، بچھڑوں، دنبوں اور بکروں کی قربانی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے جو عید کے تینوں دن جاری رہے گا۔ لاہور کے دارالعلوم جامعہ نعیمیہ میں بڑی اجتماعی قربانی کا انتظام کیا گیا ہے، اور شہری سنتِ ابراہیمی کے اس فریضے کی ادائیگی کے بعد قربانی کا گوشت سنت کے مطابق غرباء، مساکین، قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کر رہے ہیں تاکہ عید کی خوشیوں میں معاشرے کے پسماندہ طبقات کو بھی برابر کا شریک کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ پاکستان کے ساتھ ساتھ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ریاستوں میں بھی آج عیدالاضحیٰ عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔
عید کے اجتماعات اور قربانی کے اس بڑے سیزن کے دوران ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ لاہور میں آئی جی پنجاب اور آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی خصوصی ہدایات پر پولیس اور رینجرز کے دستے ہائی الرٹ ہیں۔ اکیلے لاہور شہر میں 11 ہزار سے زائد اہلکار تعینات ہیں، جبکہ ڈولفن اور پیرو اسکواڈ کے 1500 جوان مسلسل پٹرولنگ کر رہے ہیں۔ بڑی عید گاہوں پر واک تھرو گیٹس نصب کیے گئے ہیں اور ٹریفک کی روانی کے لیے 3 ہزار سے زائد ٹریفک وارڈنز ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔ راولپنڈی کے 604 مساجد اور 72 امام بارگاہوں سمیت تمام حساس مقامات پر پولیس افسران فرائض انجام دے رہے ہیں۔
دوسری جانب، قربانی کے بعد صفائی و ستھرائی کو برقرار رکھنے کے لیے تمام اضلاع کی ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں، میونسپل اداروں، ٹاؤن کمیٹیوں اور یونین کونسلز نے خصوصی آپریشنل پلان فعال کر دیا ہے۔ قربانی کی آلائشوں، خون اور کچرے کو بروقت ٹھکانے لگانے کے لیے فیلڈ ورکرز اور گاڑیوں کی خصوصی ٹیمیں گلی محلوں میں متحرک ہیں تاکہ شہروں میں تعفن اور بیماریاں نہ پھیلیں اور صفائی کے نظام کو مؤثر رکھ کر شہریوں کو عید کے ایام میں ایک صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔