میدانِ عرفات میں لاکھوں حجاج نے خطبہ حج سنا؛ امام مسجدِ نبوی کا صبر، تقویٰ اور مسلم اتحاد پر زور

کولکتہ (کیو این این ورلڈ)بی بی سی اردو کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، انڈیا کی ریاست مغربی بنگال میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر بڑے جانوروں خصوصاً گائے کی قربانی پر عائد کی جانے والی نئی سرکاری پابندیوں نے جہاں مسلم برادری کو متبادل راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے، وہاں دیہی معیشت سے وابستہ ہزاروں ہندو مویشی پالنے والے تاجروں کو شدید مالی بحران اور مایوسی کے اندھیروں میں دھکیل دیا ہے۔ صورتحال اس حد تک سنگین ہو چکی ہے کہ کولکتہ کے نواحی گاؤں کے ایک 66 سالہ ہندو کسان گھوش بابو نے انتہائی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہماری گائیں نہ بکیں تو ہمارے پاس زہر کھانے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا، کیونکہ ہم غریب لوگ ہیں اور ہمیں صرف گائے پالنا ہی آتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت قائم ہونے کے فوراً بعد 13 مئی کو ایک عوامی نوٹس جاری کیا گیا، جس کے تحت 1950 کے ایک پرانے قانون اور 2018 کے کولکتہ ہائی کورٹ کے حکم کو سخت ترین انداز میں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت بنگال میں 14 سال سے کم عمر کے جانوروں (بیل، گائے، بچھڑے اور بھینس) کے ذبح کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے اور قربانی کے لیے سرکاری ویٹرنری ڈاکٹر اور مقامی بلدیہ یا پنچایت کے سربراہ سے مشترکہ ‘فٹنس سرٹیفکیٹ’ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس قانون کے خلاف جب مسلم تنظیموں اور اپوزیشن رہنما مہوا موئترا نے کولکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا، تو چیف جسٹس سجئے پال اور جسٹس پارتھا سارتھی سین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اس پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے تاریخی عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا کہ گائے کی قربانی اسلام کا لازمی مذہبی تقاضا نہیں ہے۔

عدالتی فیصلے اور سخت سرکاری شرائط کے بعد بنگال کے مسلمانوں نے کسی بھی ممکنہ کشیدگی اور قانونی ہراسانی سے بچنے کے لیے گائے کی خریداری سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی ہے، جس کی وجہ سے مویشی منڈیاں مکمل طور پر ویران ہو چکی ہیں۔ دلچسپ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان گایوں کو پالنے اور بیچنے والے تاجروں کی اکثریت کا تعلق ہندو برادری سے ہے، جو بقر عید کے سیزن پر لاکھوں روپے کمانے کی امید میں سال بھر قرض لے کر ان جانوروں کو پالتے ہیں۔ تاجر کنہائی گھوش اور کسان سنگیتا گھوش کے مطابق، اب ان کے پاس لاکھوں روپے مالیت کے جانور کھڑے ہیں جن کا کوئی خریدار نہیں ہے، جس کے باعث وہ اپنے قرضے ادا کرنے اور چارے کے اخراجات اٹھانے سے بھی قاصر ہو چکے ہیں۔

سیاسی محاذ پر اس فیصلے کے بعد شدید بحث چھڑ گئی ہے۔ جہاں بی جے پی کے ترجمان دیبجیت سرکار کا کہنا ہے کہ پالیسی عوام کی خواہشات کے مطابق بنتی ہے اور اگر اکثریت گاؤکشی پر پابندی چاہتی ہے تو یہ نافذ ہونی چاہیے، وہاں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے رہنما کنال گھوش نے مودی حکومت پر دوغلے پن کا الزام لگاتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ اگر مودی حکومت خود بیف (گائے کا گوشت) ایکسپورٹ کر کے غیر ملکی زرمبادلہ کما رہی ہے، تو صرف بنگال کے غریب تاجروں اور دیہی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے یہاں پابندی کیوں لگائی گئی؟


 

اس پیچیدہ صورتحال کے پیشِ نظر اب انڈیا کے مسلم حلقوں کی جانب سے گائے کو ‘قومی جانور’ قرار دینے کا ایک انوکھا اور بڑا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔ اس مہم کی شروعات کولکتہ کی مشہور ناخدا مسجد کے امام محمد شفیق قاسمی نے کی، جن کا کہنا ہے کہ گائے کی قربانی نہ ہونے سے مسلمانوں کا اتنا بڑا نقصان نہیں ہے جتنا کہ ہندو بھائیوں کا ہے، کیونکہ اس کاروبار سے مالی فائدہ ہندوؤں کو ہوتا ہے جبکہ گاؤکشی کے نام پر مسلمان بلاوجہ مجرم قرار دے دیے جاتے ہیں۔ اس مطالبے کی حمایت جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی اور سابق نائب صدرِ جمہوریہ حامد انصاری نے بھی کی ہے، جن کا مؤقف ہے کہ اگر گائے کو قومی جانور بنا کر قانون پورے ملک میں یکساں نافذ کر دیا جائے تو گائے کے نام پر ہونے والا ہجومی تشدد (Mob Lynching) اور نفرت کی سیاست ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔ تاہم، سابق رکنِ پارلیمان عبید اللہ خان اعظمی جیسے رہنما اسے ‘بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ’ قرار دیتے ہوئے خبردار کر رہے ہیں کہ قانون کی آڑ میں مستقبل میں کمزور طبقات کو مزید نشانہ بنایا جائے گا اور جھوٹے مقدمات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے