میدانِ عرفات میں لاکھوں حجاج نے خطبہ حج سنا؛ امام مسجدِ نبوی کا صبر، تقویٰ اور مسلم اتحاد پر زور

مکہ مکرمہ (کیو این این ورلڈ)حج کے مبارک اور تاریخی موقع پر دنیا بھر سے آئے ہوئے تقریباً 20 لاکھ سے زائد فرزندانِ اسلام نے میدانِ عرفات میں جمع ہو کر حج کا رکنِ اعظم ‘وقوفِ عرفہ’ ادا کر لیا ہے۔ اس ایمان افروز اجتماع کے دوران مسجدِ نمرہ سے امام مسجدِ نبوی ﷺ شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی نے حج کا خطبہ دیا، جسے لاکھوں عازمین نے انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ سماعت کیا۔ اپنے خطبے میں انہوں نے تقویٰ، توحید، صبر اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر خصوصی زور دیا۔

شیخ ڈاکٹر علی بن عبدالرحمن الحذیفی نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور حضور نبی کریم ﷺ پر درود و سلام کے بعد خطبہ حج کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آخرت کی سب سے بڑی کامیابی اور نجات کا واحد ذریعہ توحید پر قائم رہنا ہے۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کو جھنجھوڑتے ہوئے سخت تنبیہ کی کہ تاریخ گواہ ہے جن قوموں نے زمین پر ظلم کا بازار گرم کیا اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کی ناشکری کی، ان سے وہ تمام نعمتیں چھین لی گئیں۔ انہوں نے حجاج کرام کو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنے، تقویٰ اختیار کرنے، ہمیشہ سچ بولنے اور غلط بیانی سے مکمل گریز کرنے کی ہدایت کی۔

امام مسجدِ نبوی ﷺ نے خطبے میں صبر کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو زندگی کی کسی بھی مشکل یا آزمائش میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے، کیونکہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے اور ان کے لیے اجرِ عظیم کا وعدہ کر رکھا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ شرک و کفر کی دلدل میں پھنسے ہیں، وہ ایسی چیزوں کو پکارتے ہیں جو کسی نفع اور نقصان کا قطعاً کوئی اختیار نہیں رکھتیں، جبکہ جو بندہ اپنے رب سے ڈرتا ہے، اس کے لیے اللہ نے دُہری جنت کا وعدہ کر رکھا ہے۔

خطبہ حج کے دوران مسلمانوں کو اتحاد و یگانگت کا درس دیتے ہوئے امام عالی مقام نے تاکید کی کہ حج کے اس مقدس سفر کے دوران کسی قسم کے لڑائی جھگڑے، گناہ اور بحث و مباحثے سے سختی سے اجتناب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے مختلف رنگ، نسل اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں مسلمانوں کا ایک ہی جگہ جمع ہونا دینِ اسلام کی عظمت کا ایک بڑا مظہر ہے، اس لیے حجاج کسی بھی ایسے عمل سے دور رہیں جس سے مسلمانوں کی وحدت کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے حجاج پر زور دیا کہ وہ نمازیں قائم کریں، کثرت سے ذکر و اذکار کریں اور مناسکِ حج کو بہترین انداز میں مکمل کریں۔

سعودی محکمہ موسمیات کے مطابق مکہ مکرمہ اور منیٰ سمیت تمام مقاماتِ مقدسہ پر موسم انتہائی گرم رہا، جہاں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ شدید گرمی اور تپش کے باوجود حجاجِ کرام کے جذبے الٰہی میں کوئی کمی نہیں دیکھی گئی، جبکہ سعودی حکام نے زائرین کی سہولت کے لیے سایہ دار شیڈز، مسٹ فینز (پانی کی پھوار والے پنکھے) اور طبی سہولیات کے غیر معمولی انتظامات کیے۔ خطبہ حج کے اختتام پر مسجدِ نمرہ میں ظہر اور عصر کی نمازیں قصر کر کے ایک ساتھ ادا کی گئیں اور مسلم دنیا کے مسائل کے حل، امن و امان اور مسلمانوں کے حالات پر رحم کے لیے رقت آمیز دعائیں مانگیں گئیں۔

مناسکِ حج کی ترتیب کے مطابق، میدانِ عرفات میں غروبِ آفتاب تک قیام اور عبادات کے بعد اب تمام حجاجِ کرام مزدلفہ کی جانب روانہ ہو رہے ہیں، جہاں وہ کھلے آسمان تلے رات گزاریں گے اور جمرات (شیطانوں) کو مارنے کے لیے کنکریاں چنیں گے۔ اگلے دن 10 ذوالحجہ کو حجاج دوبارہ منیٰ کا رخ کریں گے، جہاں وہ رمي جمرات (کنکریاں مارنے)، قربانی اور حلق یا قصر کروا کر احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو جائیں گے، جس کے بعد بیت اللہ کا طوافِ زیارت ادا کیا جائے گا۔ امام عالی مقام نے خطبے کے آخر میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ تمام عازمین کے مناسک کو قبول فرمائے اور انہیں بحفاظت و سلامتی ان کے گھروں کو لوٹائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے