واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال سے متعلق عرب رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے مبینہ مندرجات سامنے آگئے ہیں، جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر نے ایران کے ساتھ امن ڈیل اور آبنائے ہرمز کی بحالی کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کر دیا۔
امریکی نیوز ویب سائٹس کی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر اور دیگر مسلم ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ کانفرنس کال میں کہا کہ اگر عرب ممالک ایران کے ساتھ امن، خطے میں استحکام اور آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی چاہتے ہیں تو انہیں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرتے ہوئے ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق یہ گفتگو امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور ممکنہ امن معاہدے سے متعلق تھی، تاہم صدر ٹرمپ نے اس موقع پر ان ممالک پر زور دیا جو 1948 سے اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے کہ وہ اب تعلقات معمول پر لانے کی طرف پیش رفت کریں۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق عرب رہنما صدر ٹرمپ کے اس مطالبے پر اس قدر حیران ہوئے کہ کافی دیر تک مکمل خاموشی چھائی رہی۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ازراہِ مذاق پوچھا کہ آیا تمام رہنما اب بھی کانفرنس کال پر موجود ہیں یا نہیں، تاہم اس پر بھی کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔
رپورٹس کے مطابق گفتگو کے اختتام پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے نمائندے جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف آئندہ ہفتوں میں متعلقہ ممالک سے مزید رابطے کریں گے تاکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاملے پر پیش رفت کی جا سکے۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں تمام اسلامی ممالک سے ابراہیمی معاہدے پر دستخط کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکیے اور دیگر ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے چاہییں جبکہ اس عمل کا آغاز سعودی عرب اور قطر سے ہونا چاہیے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ابراہیمی معاہدے میں شامل ممالک کیلئے مالی، معاشی اور سماجی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے اور یہ معاہدہ مشرقِ وسطیٰ کو دنیا کا سب سے طاقتور اور متحد خطہ بنا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران بھی امریکا کے ساتھ معاہدہ کر لیتا ہے تو اس کیلئے بھی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت باعثِ اعزاز ہوگی۔
واضح رہے کہ ابراہیمی معاہدہ 2020 میں صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ حکومت میں طے پایا تھا، جس کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کیے تھے۔ بعد ازاں قازقستان کی شمولیت کی خبریں بھی سامنے آئیں۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد اسرائیل اور مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، معاشی اور سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینا بتایا جاتا ہے، تاہم فلسطینی قیادت اور کئی مسلم ممالک مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ فلسطین کے مسئلے کے حل کے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنا ممکن نہیں۔
پاکستان کا سرکاری اور آئینی مؤقف بھی یہی ہے کہ اسرائیل کو اُس وقت تک تسلیم نہیں کیا جا سکتا جب تک فلسطینیوں کو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار ریاست نہ مل جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ پاکستان کی یہ پالیسی بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے دور سے آج تک برقرار ہے۔