واشنگٹن/تہران (کیو این این ورلڈ)امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی کے باوجود جنوبی ایران میں امریکی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور ابراہام معاہدوں سے مشروط قرار دے دیا ہے۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی ہے کہ جنوبی ایران میں فضائی کارروائیاں کی گئیں جن میں ایرانی ڈرون لانچنگ تنصیبات، میزائل لانچ سائٹس اور بارودی سرنگیں بچھانے والی کشتیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق سینٹ کام کے ترجمان نیوی کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ امریکی افواج نے اپنے اہلکاروں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے دفاعی نوعیت کی کارروائی کی۔
سینٹ کام کے مطابق امریکی فوج جنگ بندی کے دوران تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف اپنے دفاع کو یقینی بنا رہی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائیاں جنوبی ایران کے ان علاقوں میں کی گئیں جہاں ایرانی فورسز کی عسکری سرگرمیوں کا خدشہ موجود تھا۔
برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق جنوبی ایران کے شہر بندر عباس اور آبنائے ہرمز کے قریب ساحلی علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ایرانی حکام نے فوری طور پر کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی۔ ایرانی میڈیا اور نیم سرکاری مہر نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور عوام کو تشویش میں مبتلا ہونے کی ضرورت نہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 7 اپریل سے جنگ بندی برقرار ہے، تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے دوران محدود نوعیت کے حملوں اور کشیدگی کے واقعات کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر بھی پیشرفت جاری ہے، اگرچہ اسے تاحال حتمی شکل نہیں دی گئی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو مشرق وسطیٰ میں ایک بڑی سفارتی تبدیلی قرار دیتے ہوئے متعدد اسلامی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے ابراہام معاہدوں میں شامل ہوں۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، اردن، ترکیہ، پاکستان، قطر اور مصر کی قیادت سے رابطہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور ممکنہ معاہدے کے بعد ان ممالک کو مشترکہ طور پر ابراہام معاہدوں میں شامل ہونا چاہیے۔
ٹرمپ نے بالخصوص سعودی عرب اور قطر پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے عمل کا آغاز کریں، جبکہ دیگر ممالک بھی ان کی پیروی کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جو ممالک ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہونا چاہتے، انہیں ایران کے ساتھ مجوزہ ڈیل کا حصہ بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ “خراب نیت” کی علامت ہوگی۔
امریکی صدر نے یہاں تک کہا کہ اگر ایران امریکا کے ساتھ معاہدہ کر لیتا ہے تو ایران کا خود ابراہام معاہدوں میں شامل ہونا بھی باعثِ اعزاز ہوگا۔ ان کے بقول اس صورت میں مشرق وسطیٰ دنیا کا سب سے زیادہ متحد، طاقتور اور معاشی طور پر مضبوط خطہ بن سکتا ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے خطے میں ایک پیچیدہ سفارتی بحران کو حل کرنے کے لیے بہت کام کیا ہے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی اس عمل کا “قدرتی اگلا مرحلہ” ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین پہلے ہی ابراہام معاہدوں کا حصہ ہیں جبکہ دیگر ممالک کو بھی جلد اس میں شامل ہو جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابراہام معاہدوں نے سوڈان، مراکش اور دیگر ممالک کے لیے معاشی اور سماجی ترقی کے نئے دروازے کھولے ہیں، جبکہ خطے میں حالیہ کشیدگی کے باوجود کسی بھی رکن ملک نے ان معاہدوں سے علیحدگی اختیار کرنے یا انہیں معطل کرنے کی بات نہیں کی۔
واضح رہے کہ ابراہام معاہدے پہلی بار 2020 میں صدر ٹرمپ کے پہلے دورِ اقتدار میں طے پائے تھے، جن کے تحت متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت کئی عرب ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔