راولپنڈی/تہران/واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے مختصر مگر اہم دورۂ ایران کے بعد حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت کی تصدیق بھی سامنے آگئی ہے۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے پر کام جاری رہنے کی تصدیق کی ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ چند روز میں جنگ یا معاہدے سے متعلق اہم فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا سرکاری دورۂ ایران مکمل ہوگیا، جہاں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی گہری بات چیت کے نتیجے میں حتمی مفاہمت کی طرف حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق تہران پہنچنے پر فیلڈ مارشل کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے سینئر سول اور عسکری حکام کے ہمراہ کیا۔ دورے کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں جن میں خطے میں کشیدگی میں کمی، جنگ بندی کے بعد کی صورتحال، امن کے قیام اور جاری ثالثی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیلڈ مارشل نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں کیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ملاقاتیں مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئیں اور انہوں نے ثالثی کے عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ ملاقاتوں کا مقصد 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی میں کمی اور تعمیری روابط کے فروغ کو یقینی بنانا تھا، جبکہ ایرانی قیادت نے علاقائی مسائل کے پرامن حل اور مذاکرات کے فروغ کے لیے پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو سراہا۔
ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی میں جاری مذاکرات کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے حوالے سے صورتحال بیک وقت قریب بھی ہے اور دور بھی، کیونکہ امریکی حکام کی جانب سے بار بار مؤقف میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی نظام یا طریقہ کار پر ایران، عمان اور اس اہم آبی گزرگاہ سے ملحق ممالک کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے اور امریکا کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے، خصوصاً لبنان میں کشیدگی کے خاتمے کو ایران ترجیح دے رہا ہے، تاہم یہ ایک طویل عمل ہے اور امریکا کے ساتھ دیرینہ تنازع کے باعث فوری نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی تازہ پیشکش پر اپنے مذاکراتی نمائندوں سے مشاورت کریں گے اور امکان ہے کہ اتوار تک فیصلہ کر لیا جائے گا کہ مذاکراتی عمل آگے بڑھانا ہے یا دوبارہ جنگ کی طرف جانا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ امکانات برابر ہیں کہ یا تو ایک اچھا معاہدہ ہو جائے گا یا پھر ایران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ صرف ایسے معاہدے کو قبول کریں گے جس میں یورینیم افزودگی اور ایران کے موجودہ یورینیم ذخائر جیسے اہم معاملات شامل ہوں۔
رپورٹس کے مطابق زیر غور مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران اور امریکا جنگ کے خاتمے پر اتفاق کرتے ہوئے مزید تفصیلی مذاکرات کے لیے 30 دن کی مدت طے کر سکتے ہیں، تاہم ان حساس نکات کے مکمل حل کے امکانات اب بھی غیر واضح ہیں۔
مجموعی طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورۂ ایران، پاکستان کی جاری ثالثی، ایرانی حکام کے بیانات اور امریکی مؤقف نے ایران امریکا مذاکراتی عمل کو ایک نئے اور اہم مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جہاں خطے میں امن، جنگ بندی اور ممکنہ معاہدے سے متعلق عالمی توجہ بڑھتی جا رہی ہے۔