ایران کے خلاف نئی کارروائی کی تیاریاں؟ امریکا کے درجنوں کارگو طیارے تل ابیب پہنچ گئے

مقبوضہ بیت المقدس(کیو این این ورلڈ) اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا کے درجنوں کارگو طیارے گولہ بارود اور عسکری سازوسامان لے کر اسرائیل پہنچ گئے ہیں، جس کے بعد خطے میں ایک نئی ممکنہ جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی میں قائم امریکی فوجی اڈوں سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران امریکی کارگو طیارے اسلحہ لے کر تل ابیب پہنچے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ کھیپ ایران کے خلاف ممکنہ دوبارہ جنگی کارروائیوں کی تیاریوں کا حصہ ہے۔

رپورٹس کے مطابق خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث اسرائیلی فوج اپنی آپریشنل تیاریوں میں اضافہ کر رہی ہے جبکہ فوج کو ہائی الرٹ پر بھی رکھا گیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے ذمہ داروں کے خاتمے کا مشن مکمل ہونے کے قریب ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ غزہ کے 60 فیصد علاقے پر اسرائیلی فوج کا کنٹرول قائم ہو چکا ہے جبکہ حماس کے متعدد رہنما اور کمانڈرز مارے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق جنگ میں اب تک 72 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق اور ایک لاکھ 20 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق غزہ کا 90 فیصد سے زائد علاقہ ناقابلِ رہائش ہو چکا ہے جبکہ اسرائیلی پابندیوں کے باعث خوراک اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے مزید رپورٹ کیا ہے کہ اگر امریکا ایران کے خلاف نئی کارروائی کرتا ہے تو اسرائیل بھی ان حملوں میں شریک ہوگا اور ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

یہ تمام پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان آدھے گھنٹے سے زائد طویل ٹیلیفونک گفتگو کے بعد سامنے آئی ہے۔

اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کے مطابق اسرائیلی فوج ایران کے ساتھ ممکنہ نئی جھڑپوں کے پیش نظر مکمل تیاری کی حالت میں ہے، جبکہ اسرائیل کو توقع ہے کہ کسی بھی ممکنہ امریکی حملے سے قبل اسے آگاہ کر دیا جائے گا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ چین سمیت کئی ممالک کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ پر دباؤ ہے کہ وہ ایران کے ساتھ نئی محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے