کندھ کوٹ میں صفائی نظام تباہ، شہریوں کا کرپشن کی تحقیقات کا مطالبہ

کندھ کوٹ(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار وقاراحمد اعوان) کندھ کوٹ شہر میں صفائی ستھرائی، بنیادی سہولیات اور میونسپل نظام کے حوالے سے انتہائی تشویشناک صورتحال سامنے آ گئی ہے جہاں میونسپل کمیٹی کی انتظامیہ خصوصاً ٹی ایم او پر مبینہ نااہلی، کرپشن اور اندرونی ملی بھگت کے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ شہریوں کے مطابق انتظامی غفلت کے باعث پورا شہر گندگی، بدبو اور مختلف بیماریوں کے خطرات کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ مختلف وارڈز بالخصوص گلشیر محلہ اور دیگر رہائشی علاقوں میں صفائی کا نظام تقریباً مفلوج ہو چکا ہے۔ گلیوں، بازاروں، محلوں اور اہم شاہراہوں پر جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر موجود ہیں جبکہ نالوں میں کھڑا گندا پانی شہریوں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن رہا ہے۔ مچھروں کی بہتات اور تعفن کے باعث علاقہ مکینوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔

عوامی حلقوں نے الزام عائد کیا ہے کہ میونسپل کمیٹی کے بعض ذمہ دار افسران اپنی انتظامی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بجائے مبینہ طور پر کرپشن، لاپرواہی اور فرضی کارکردگی میں مصروف ہیں جس کا براہِ راست نقصان شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔

مزید یہ بھی الزام سامنے آیا ہے کہ صفائی عملے کی نگرانی کرنے والے بعض افسران اور چیف سپروائزر کی مبینہ ملی بھگت سے کچرا اٹھانے والے ٹریکٹروں اور دیگر سرکاری وسائل کے استعمال میں بھی بے ضابطگیوں اور کرپشن کی شکایات موجود ہیں۔ شہریوں کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر ٹریکٹروں کے لیے جاری ہونے والے ہزاروں روپے مالیت کے تیل کے استعمال پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں جبکہ بعض گاڑیاں مقررہ اوقات سے ہٹ کر چلتی دیکھی گئی ہیں جس سے سرکاری فنڈز کے استعمال پر شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔

علاقہ مکینوں نے دعویٰ کیا ہے کہ متعدد صفائی ملازمین صرف کاغذی ریکارڈ تک محدود ہیں جبکہ عملی طور پر ان کی موجودگی نظر نہیں آتی۔ بعض ملازمین کے بارے میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ مبینہ طور پر گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں جبکہ شہر مسلسل گندگی میں ڈوبتا جا رہا ہے۔

شہریوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے سندھ حکومت، بلدیاتی سیکریٹری، کمشنر لاڑکانہ، ڈپٹی کمشنر کشمور اور اینٹی کرپشن حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور میونسپل کمیٹی میں مبینہ کرپشن، فرضی ڈیوٹیوں، تیل میں خرد برد اور صفائی کے نظام میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف شفاف انکوائری کرکے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے