امریکا ایران کشیدگی: ٹرمپ کا خاتمے کا دعویٰ، دباؤ برقرار

واشنگٹن/تہران( کیو این این ورلڈ) امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے حوالے سے متضاد بیانات اور اقدامات سامنے آ رہے ہیں، جہاں ایک جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو خط لکھ کر مسلح کشیدگی کے خاتمے کا دعویٰ کیا ہے، وہیں دوسری جانب جنگ، پابندیوں اور سفارتی کوششوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے اسپیکر مائیک جونسن اور سینیٹ کے صدر چک گراسلی کو لکھے گئے خط میں کہا کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی ایران کے ساتھ مسلح کشیدگی ختم ہو چکی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تنازعہ مکمل طور پر حل نہیں ہوا اور ضرورت پڑنے پر جنگ جاری رہ سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مؤقف سے ٹرمپ انتظامیہ کانگریس سے باقاعدہ جنگی منظوری لینے کی آئینی مجبوری سے بچنا چاہتی ہے۔

دوسری جانب فلوریڈا میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا اپنے مقاصد کے حصول تک ایران کے خلاف کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس مرحلے پر تنازع ختم کیا گیا تو مسئلہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیت اور قیادت کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے۔

امریکی صدر نے یہ بھی انکشاف کیا کہ انہیں ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر بریفنگ دی گئی ہے اور اب فیصلہ کرنا ہے کہ طاقت استعمال کی جائے یا سفارت کاری کو موقع دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ شرائط قابل قبول نہیں، جس کے باعث مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔

ادھر ایران نے بھی سفارت کاری کا دروازہ کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم امریکا کو دھمکی آمیز رویہ ترک کرنا ہوگا۔ انہوں نے خطے کے متعدد ممالک سے رابطے کر کے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں سے آگاہ کیا، جبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کو ثالث کا کردار حاصل ہو سکتا ہے۔

میدانِ عمل میں امریکا نے ایران کے خلاف دباؤ بڑھاتے ہوئے نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، جن کے تحت 6 ایرانی شہریوں، 21 کمپنیوں اور ایک بحری جہاز کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدامات ایران کے مالیاتی و تجارتی نیٹ ورکس کو محدود کرنے اور اس کے توانائی و ممکنہ جوہری پروگرام پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

اسی سلسلے میں امریکا نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہاز ایران کو کسی قسم کی ٹول فیس ادا نہ کریں، بصورت دیگر متعلقہ کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ امریکی ناکہ بندی کے باعث ایران کو اربوں ڈالر کا نقصان بھی پہنچنے کی اطلاعات ہیں اور درجنوں آئل ٹینکرز خلیج میں پھنس چکے ہیں۔

آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل ترسیل کی اہم ترین گزرگاہ ہے، اس وقت کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ ایران نے اس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کو حق قرار دیا ہے جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے اس علاقے میں نگرانی مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب چین نے جنگ بندی برقرار رکھنے اور آبنائے ہرمز فوری کھولنے پر زور دیا ہے تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

علاقائی سطح پر امریکا نے اپنے اتحادیوں قطر، کویت، متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کو اربوں ڈالر مالیت کے اسلحے کی فروخت کی منظوری بھی دے دی ہے، جس سے خطے میں طاقت کے توازن پر مزید اثرات پڑنے کا امکان ہے۔

ادھر سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر لندن میں امریکی سفارت خانے نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے، جبکہ برطانوی حکام نے بھی دہشت گردی کے خطرے میں اضافے کی نشاندہی کی ہے۔

مجموعی طور پر صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ بظاہر کشیدگی میں کمی کے دعوے کیے جا رہے ہیں، تاہم زمینی حقائق میں فوجی تیاری، اقتصادی دباؤ اور سفارتی کوششیں بیک وقت جاری ہیں، جس کے باعث خطہ اب بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے