بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے وفاقی محتسب کی خدمات
ضیاء الحق سرحدی پشاور
ziaulhaqsarhadi@gmail.com
ایک کروڑ سے زائد بیرون ملک مقیم پاکستانی وطنِ عزیز کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی طرف سے ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیل پاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ چنانچہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک ان کے مسائل اور شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر جلد از جلد حل کرنے کے لیے وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں ”کمشنر شکایات برائے اوورسیز پاکستانی“ (Grievance Commissioner for Overseas Pakistanis) کے نام سے ایک دفتر الگ سے کام کر رہا ہے جس کی نگرانی خود وفاقی محتسب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئے وفاقی محتسب جناب نوید کامران بلوچ نے مارچ 2026ء میں چارج سنبھالتے ہی دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ وفاقی محتسب میں قائم ”اوورسیز ونگ“ سے بھی تفصیلی بریفنگ حاصل کی اور اس کی کارکردگی میں بہتری لانے کے لیے ہدایات بھی جاری کیں۔
شکایات کمشنر برائے اوورسیز پاکستانی کا دفتر بیرونی ممالک میں قائم پاکستانی سفارتخانوں اور پاکستان کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر قائم کیے گئے ”یکجا سہولیتی ڈیسکوں“ (One Window Facilitation Desks) کے ذریعے بھی اوورسیز پاکستانیوں کی خدمت میں مصروف ہے۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی شکایات سادہ کاغذ پر اردو یا انگریزی میں لکھ کر ای میل (mohtasiboverseasgcommissioner)، فیکس (051-9217224)، واٹس ایپ یا ڈاک کے ذریعے براہ راست بھی ”شکایات کمشنر“ کو ارسال کر سکتے ہیں، جن پر 24 گھنٹوں کے اندر متعلقہ محکموں کے توسط سے مسئلے کے تدارک کے لیے کارروائی شروع کر کے شکایت کنندہ کو ای میل کے ذریعے مطلع کر دیا جاتا ہے۔
کوشش کی جاتی ہے کہ NICOP، POC، پاسپورٹ کی تجدید، نئے پاسپورٹ کے اجرا یا اسی نوعیت کی دیگر عمومی شکایات کا ابتدائی سطح پر ہی بیس پچیس دنوں میں ازالہ ہو جائے، جبکہ ایسی شکایات جن میں ایک سے زیادہ محکمے ملوث ہوں ان کا فیصلہ بھی زیادہ سے زیادہ 60 دنوں میں کر دیا جاتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر واٹس ایپ یا ویڈیو کال کے ذریعے شکایت کنندہ کا نقطہ نظر/موقف بھی حاصل کر لیا جاتا ہے۔ شکایت کنندگان کی مزید رہنمائی کے لیے وفاقی محتسب کی ویب سائٹ (www.mohtasib.gov.pk
) بھی موجود ہے، نیز فون نمبر 051-9217259 یا ہیلپ لائنز 051-9213886-7 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ میں شکایت درج کرانے کی نہ تو کوئی فیس ہے اور نہ ہی وکیل کی ضرورت، یہاں سائل خود ہی اپنا وکیل ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی محتسب کے احکامات کی روشنی میں تمام پاکستانی سفارتخانوں نے اپنے دفتر میں ایک سینئر افسر کو فوکل پرسن مقرر کرنے کے علاوہ ہفتے میں ایک دن اور وقت مخصوص کر رکھا ہے تاکہ دیارِ غیر میں مقیم پاکستانی سفیر محترم یا فوکل پرسن سے براہ راست ملاقات کر کے اپنی شکایات پیش کر سکیں۔ علاوہ ازیں پاکستانی مشنز کو کہا گیا ہے کہ مہینے میں کم از کم ایک مرتبہ کھلی کچہری لگائیں اور آن لائن، واٹس ایپ یا تحریری صورت میں بھی شکایات سن کر یا وصول کر کے بیرون ملک پاکستانیوں کے مسائل حل کریں۔
اس سلسلے میں تمام پاکستانی سفارتخانے وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کو ہر ماہ مفصل رپورٹ ارسال کرتے ہیں۔ اسی طرح وفاقی محتسب نے ملک کے 08 بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر ”یکجا سہولیتی ڈیسک“ قائم کر رکھے ہیں جہاں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو وطن آتے اور باہر جاتے وقت سہولیات فراہم کرنے کے لیے متعلقہ بارہ اداروں—او پی ایف، پی آئی اے، پاکستان کسٹمز، اے ایس ایف، ایف آئی اے، پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی، نادرا، اے این ایف، بارڈر ہیلتھ سروسز پاکستان، بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹس—کے نمائندے ہفتے کے ساتوں دن چوبیس گھنٹے موجود رہتے ہیں اور اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات کا موقع پر ہی ازالہ کرتے ہیں۔ کوئی بھی اوورسیز پاکستانی ان کی خدمات سے استفادہ کر سکتا ہے۔
وفاقی محتسب کی طرف سے بنائی گئی سینئر ایڈوائزرز پر مشتمل معائنہ ٹیمیں مختلف اوقات میں ان ائیرپورٹس پر فراہم کی گئی سہولیات کا جائزہ لینے کے لیے دورے اور میٹنگز بھی کرتی رہتی ہیں۔ سال 2025ء میں مختلف ائیرپورٹس کے 16 دورے کر کے فوکل پرسنز سے میٹنگز کی گئیں جن میں یکجا سہولیتی مراکز کو مزید فعال اور کارآمد بنانے کے لیے مختلف امور کا جائزہ لیا گیا اور موقع پر ہی احکامات جاری کر کے کئی لوگوں کے مسائل حل کرائے گئے۔ علاوہ ازیں قلیل مدتی اور طویل مدتی سفارشات پر مشتمل رپورٹیں تیار کر کے وفاقی محتسب کو پیش کی گئیں جن پر متعلقہ محکموں سے مرحلہ وار عملدرآمد کرایا گیا۔
انفرادی شکایات اور بیرون ملک جیلوں میں قید پاکستانیوں کی رہائی جیسے مسائل کے علاوہ وفاقی محتسب کے شکایات کمشنر آفس کی طرف سے اجتماعی مسائل کے حل کی طرف بھی خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ مثلاً پروٹیکٹر اسٹیمپ دیگر ممالک میں روزگار کے سلسلے میں جانے والے پاکستانیوں کا ایک اہم مسئلہ تھا۔ پاسپورٹ پر پروٹیکٹر اسٹیمپ چسپاں نہ ہونے کی صورت میں لیبر کلاس کے کئی افراد کو ائیرپورٹس سے واپس جانا پڑتا تھا جس کے باعث ان کا وقت اور ٹکٹ کی رقم ضائع ہو جاتی تھی۔
وفاقی محتسب کی مسلسل کاوشوں سے اب یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے اور ورک ویزا پر باہر جانے والے افراد گھر بیٹھے ہی کسی بھی وقت بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ سے دو گھنٹے میں آن لائن پروٹیکٹر اسٹیمپ لگوا سکتے ہیں، نیز ائیرپورٹس پر بھی یہ سہولت فراہم کر دی گئی ہے جس سے ہزاروں لوگ استفادہ کر رہے ہیں۔ اسی طرح وزارت خارجہ کے دفتر اسلام آباد کے علاوہ لاہور، گجرات اور کراچی سے بھی دستاویزات کی اپوسٹائل تصدیق کا آغاز ہو چکا ہے جس سے بیرون ملک مقیم اور بیرون ملک جانے والے پاکستانیوں کو خاصی سہولت حاصل ہو گئی ہے۔
مزید برآں سال 2025ء میں وفاقی محتسب کے دفتر میں تمام متعلقہ ایجنسیوں کے سینئر افسران سے ہونے والی مسلسل میٹنگز کے نتیجے میں نادرا نے حال ہی میں Pak ID App کا اجرا کر دیا ہے، جس کے باعث بیرون ملک مقیم پاکستانی پنشنرز گھر بیٹھے ہی اس ایپ کے ذریعے ”تصدیق نامۂ حیات“ (Proof of Life) فراہم کر سکیں گے اور انہیں ہر چھ ماہ کے بعد بینک یا ایمبیسی نہیں جانا پڑے گا۔
مختصر یہ کہ وفاقی محتسب کا سہولیتی کمشنر آفس اپنے قیام سے لے کر اب تک پوری تندہی کے ساتھ اوورسیز پاکستانیوں کی خدمت میں مصروف ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے دائرہ کار میں وسعت لائی جا رہی ہے، جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2025ء میں اس دفتر کی طرف سے مجموعی طور پر 135,559 اوورسیز پاکستانیوں کی شکایات کا ازالہ کیا گیا، انہیں سہولیات فراہم کی گئیں اور ان کے مسائل حل کیے گئے۔
