سیالکوٹ انڈسٹریل زون منصوبہ ختم، 1400 ایکڑ اراضی پر منصوبہ ناکام

سیالکوٹ (کیواین این ورلڈ/بیورو چیف مدثر رتو) سیالکوٹ سمبڑیال موٹروے کے قریب 1400 ایکڑ قیمتی زرعی اراضی پر مجوزہ انڈسٹریل زون کے منصوبے کو باضابطہ طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ اس اہم منصوبے کے خاتمے کی بڑی وجہ سیاسی حمایت کا حاصل نہ ہونا اور تکنیکی بنیادوں پر اسے ناقابل عمل قرار دینا بتایا گیا ہے۔ وزیر دفاع و ہوا بازی خواجہ محمد آصف نے بھی سیالکوٹ چیمبر آف کامرس میں اپنے خطاب کے دوران اس منصوبے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ناقابل عمل قرار دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق یہ منصوبہ صوبائی حکومت کے زیرِ اہتمام شروع کیا جانا تھا، جس کے لیے سابق صدر چیمبر میاں عمران اکبر کے دور میں زمین کے حصول کے لیے سیکشن 4 نافذ کیا گیا تھا۔ تاہم گزشتہ 4 سے 5 سالوں کے دوران اس منصوبے پر کوئی عملی پیش رفت نہ ہو سکی، جس کے باعث سیکشن 4 کی قانونی معیاد ختم ہو گئی اور منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔

صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس احتشام مظہر گیلانی نے منصوبے کی منسوخی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اس انڈسٹریل زون کے لیے ضروری سیاسی مدد حاصل نہیں ہو سکی، جس کی وجہ سے اسے بند کرنا پڑا۔ اس حوالے سے گزشتہ روز وزیر تجارت نے سرجیکل ایسوسی ایشن کی نمائش کے موقع پر بھی برآمد کنندگان کو آگاہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب چیئرمین ڈیموکریٹک گروپ سیالکوٹ چیمبر سہیل خاور میر نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نئے منصوبوں کے بجائے پہلے سے جاری ادھورے منصوبوں کو مکمل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیالکوٹ ایکسپورٹ پراسیسنگ زون کی لیب اور ٹینری زون کے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کو فوری فعال کیا جائے، کیونکہ 15 سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبے مکمل نہیں ہو سکے اور اپنی افادیت کھو رہے ہیں۔

مقامی شہریوں اور سماجی حلقوں نے بھی زرعی زمینوں پر صنعتی قبضے کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ خوراک کے تحفظ کے لیے زرعی اراضی کے کمرشل استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ موجودہ صنعتی یونٹس کو جدید سہولیات فراہم کرنا نئے اور غیر یقینی منصوبوں سے زیادہ بہتر ثابت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے