واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) ایران کے ساتھ جاری جنگ میں میزائلوں کے وسیع پیمانے پر استعمال کے باعث امریکا کو مستقبل میں اسلحے کی قلت کے سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں، ماہرین اور دفاعی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نئی بڑی جنگ کا سامنا کرنا پڑا تو امریکی فوج کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے حالیہ جائزوں سے واقف ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران امریکی فوج نے اپنے اہم اور جدید میزائل ذخائر کا بڑا حصہ استعمال کر لیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کی طویل مدتی عسکری حکمت عملی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔
سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ سات ہفتوں کے دوران امریکی فوج نے پریسیژن اسٹرائیک میزائلز (Precision Strike Missiles) کے ذخیرے کا کم از کم 45 فیصد استعمال کر لیا، جبکہ بیلسٹک میزائلوں کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے تھاڈ (THAAD) سسٹم کے میزائلوں کا تقریباً نصف خرچ ہو چکا ہے۔ اسی طرح پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر میں بھی تقریباً 50 فیصد کمی واقع ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا نے میزائلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے رواں سال کے آغاز میں کئی دفاعی معاہدے کیے ہیں، تاہم ان میزائلوں کی تیاری اور فراہمی میں 3 سے 5 سال کا وقت درکار ہوگا، جس کے باعث فوری طور پر ذخائر کو بحال کرنا ممکن نہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ موجودہ حالات میں امریکا کے پاس ایران کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے کافی اسلحہ موجود ہے، تاہم اصل تشویش اس بات کی ہے کہ باقی ماندہ ذخائر کسی بڑی عالمی طاقت، خصوصاً چین، کے ساتھ ممکنہ تنازع کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکی فوج کو اپنے دفاعی ذخائر کو دوبارہ مستحکم کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں، اور اگر اس دوران کوئی نیا محاذ کھل گیا تو امریکا کو غیر معمولی دفاعی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔