پاکستان کی ثالثی رنگ لانے لگی، امریکا نے جنگ بندی بڑھادی مگر مذاکرات غیر یقینی

اسلام آباد (کیو این این ورلڈ)پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں عارضی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر ایران کے خلاف ممکنہ حملہ مؤخر کرتے ہوئے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان اور سخت بیانات مذاکراتی عمل کو غیر یقینی بنائے ہوئے ہیں۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایران کی جانب سے کوئی قابل قبول تجویز سامنے نہیں آتی اور مذاکرات کسی نتیجے تک نہیں پہنچ جاتے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی اور فوج کو ہر ممکن کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران شدید اندرونی تقسیم کا شکار ہے اور دباؤ میں ہے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی اقدام کو شک کی نظر سے دیکھا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے مشیر مہدی محمدی نے جنگ بندی میں توسیع کو مسترد کرتے ہوئے اسے ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے وقت حاصل کرنے کی چال قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جاری بحری ناکہ بندی دراصل جنگی اقدام ہے اور اس کا جواب بھی اسی انداز میں دیا جا سکتا ہے۔

ادھر امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں متوقع مذاکرات کا دوسرا دور تاحال غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک مذاکرات میں شرکت نہیں کرے گا جب تک امریکا اپنی "جارحانہ پالیسیوں” اور ناکہ بندی کو ختم نہیں کرتا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کے مطابق موجودہ حالات میں مذاکرات وقت کا ضیاع ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم اگر مثبت اشارے ملے تو شرکت پر غور کیا جا سکتا ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا پاکستان کا متوقع دورہ بھی مؤخر کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی جانب سے غیر واضح مؤقف اور مذاکرات میں عدم دلچسپی کے باعث کیا گیا، تاہم دورہ مکمل طور پر منسوخ نہیں بلکہ عارضی طور پر ملتوی کیا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جنگ بندی میں توسیع کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔

دوسری جانب خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول اور ناکہ بندی جاری رکھنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایران نے خبردار کیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر وہ اس ناکہ بندی کو طاقت کے ذریعے توڑ سکتا ہے۔ ایرانی فوجی حکام نے بھی واضح کیا ہے کہ کسی بھی نئی جارحیت کی صورت میں پہلے سے طے شدہ اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

امریکا نے ایران پر مالی دباؤ مزید بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے نئی پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران پابندیوں کو غیر مؤثر بنانے اور اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ ایران کو جھوٹے وعدوں اور دھمکیوں کا سامنا ہے اور صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، جبکہ چین نے بھی خطے میں فوری جنگ بندی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال "مذاکرات بھی، دباؤ بھی” کی پالیسی کی عکاس ہے، جہاں ایک جانب سفارتکاری جاری ہے تو دوسری جانب فوجی تیاری اور سخت بیانات بھی برقرار ہیں۔ پاکستان کی ثالثی کوششیں اس تناظر میں اہمیت اختیار کر چکی ہیں، تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقین کے درمیان اعتماد سازی سب سے بڑا چیلنج ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے