اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران پاکستان میں مجوزہ مذاکرات غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئے ہیں، ایک جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت بیانات اور ممکنہ معاہدے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں تو دوسری جانب ایران نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات میں شرکت سے انکار کا عندیہ دے دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے امریکی وفد پاکستان روانہ ہو چکا ہے جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوئی تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے مکمل دستبردار ہونا ہوگا۔
ٹرمپ نے ایک طرف معاہدے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جلد ایک “بہتر اور تاریخی ڈیل” طے پا سکتی ہے، حتیٰ کہ بعض رپورٹس میں آج ہی معاہدے پر دستخط کا دعویٰ بھی کیا گیا، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ دوسری جانب انہوں نے سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو جنگ بندی میں توسیع ممکن نہیں ہوگی اور ایران پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا، اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو خطے میں جنگ دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔
ادھر ایران نے امریکا کے طرز عمل کو سفارتکاری کے منافی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ دباؤ کے تحت کسی بھی معاہدے پر آمادہ نہیں ہوگا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا کے متضاد بیانات اور غیر تعمیری رویہ مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے، اور ایران کسی بھی صورت طاقت کے آگے نہیں جھکے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے جلد فیصلہ کرے گا کہ مذاکرات میں شامل ہونا ہے یا نہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ موجودہ حالات میں امریکا کے ساتھ مذاکرات ممکن نہیں اور ایران کو امریکا پر کوئی اعتماد نہیں۔
ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی اور اپنے جہاز پر حملے کو جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے پاکستان میں مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کا عندیہ دیا ہے، تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ حتمی فیصلہ حالات کے مزید جائزے کے بعد کیا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان رابطے میں مذاکرات اور خطے میں امن کے لیے مسلسل بات چیت کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان دونوں ممالک کو ایک بار پھر مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کر رہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی سرگرمیاں جاری ہیں، چین اور روس نے مذاکرات اور جنگ بندی پر زور دیا ہے جبکہ امریکا نے لبنان اور اسرائیل کے درمیان بھی مذاکرات کا اعلان کیا ہے۔
ایران کے اندر بھی صورتحال کشیدہ ہے جہاں حکومت کے حق میں مظاہروں میں شدت آ گئی ہے اور بعض مقامات پر اسلحہ بردار خواتین بھی نظر آئی ہیں، جو ممکنہ تصادم کی تیاریوں کا عندیہ دیتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی پالیسی “مذاکرات بھی، تیاری بھی” اور امریکا کی جانب سے دباؤ اور دھمکیوں کا امتزاج اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ایسے میں اسلام آباد میں ممکنہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکے ہیں، تاہم موجودہ حالات میں ان کے کامیاب ہونے کے امکانات غیر واضح دکھائی دیتے ہیں۔