لاہور (کیو این این ورلڈ) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی ثالثی عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے اور دنیا کو ممکنہ تیسری عالمی جنگ سے بچانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
لاہور میں جے یو آئی پنجاب کے زیر اہتمام معروف شاعر سید سلمان گیلانی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکمرانوں سے اختلاف کا مطلب ریاست کو نقصان پہنچانا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے اور عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث حالات کسی بڑے تصادم کی طرف نہیں بڑھے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی درخواست پر مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے وقتی طور پر ملتوی کیے گئے ہیں، تاہم انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل بدستور موجود ہیں اور مناسب وقت پر دوبارہ احتجاج کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے امریکی صدر کے طرز بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف دھمکی آمیز زبان استعمال کی جاتی ہے، جو سفارتی آداب کے منافی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی طاقتوں کو سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی داخلی پالیسیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے اور فیصلہ سازوں کو واضح کرنا چاہیے کہ ملک کا اقتصادی مستقبل کیا ہوگا۔ انہوں نے نظام حکومت میں بہتری کو ناگزیر قرار دیا۔
اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما سعد رفیق نے کہا کہ ابراہیمی معاہدہ عملاً ختم ہو چکا ہے اور غزہ کی صورتحال نے عالمی منظرنامے کو تبدیل کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کی جانب سے الزامات کے باوجود پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مؤثر مظاہرہ کیا اور عالمی توجہ حاصل کی۔
سعد رفیق نے مزید کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کو معاشی بحران سے بچایا گیا اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے محفوظ رکھا گیا۔ انہوں نے پاک فضائیہ کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے بھرپور کردار ادا کیا اور ایران پر حملے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے اور ملک کا وقار بلند ہوا ہے۔