گوجرانوالہ: ڈی ایچ کیو ٹیچنگ ہسپتال میں مبینہ غفلت، ماں اور نومولود بچی جاں بحق

گوجرانوالہ (کیو این این ورلڈ/بیوروچیف محمدرمضان نوشاہی) ڈی ایچ کیو ہسپتال گوجرانوالہ میں مبینہ طبی غفلت نے ایک ہنستے بستے گھر کی خوشیاں اجاڑ دیں، جہاں دورانِ زچگی ماں اور اس کی نومولود بچی دم توڑ گئیں۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد ہسپتال میں کہرام مچ گیا اور لواحقین نے ڈاکٹروں کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی ہے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق متوفیہ وفا محبوب کو زچگی کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ وہ حمل کے دوران باقاعدگی سے چیک اپ کروا رہی تھیں اور ان کی حالت بہتر تھی۔ لواحقین نے سنگین الزام عائد کیا ہے کہ ڈاکٹروں نے خون کی کمی کا جواز بنا کر فوری طور پر دو بوتل خون طلب کیا، جو فراہم کر دیا گیا، تاہم وہ خون مریضہ کو لگایا ہی نہیں گیا جو کہ مجرمانہ غفلت ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق زچگی کے کچھ ہی دیر بعد نومولود بچی جاں بحق ہو گئی، جس کے بعد ماں کی حالت بھی بگڑ گئی اور وہ بھی خالقِ حقیقی سے جا ملی۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ اس تمام صورتحال کے دوران کوئی بھی سینئر ڈاکٹر وارڈ میں موجود نہیں تھا اور جونیئر عملے کے رحم و کرم پر مریضہ کو چھوڑ دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے دو قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔

واقعے کی اطلاع ملتے ہی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) ڈاکٹر امتیاز رانا نے معاملے کا نوٹس لے لیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق مریضہ کو کچھ پیچیدگیوں اور خون کی شدید کمی کا سامنا تھا، تاہم اصل حقائق جاننے کے لیے تین سے چار سینیئر ڈاکٹروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

ایم ایس ڈاکٹر امتیاز رانا نے یقین دلایا کہ انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اگر کسی بھی ڈاکٹر یا عملے کی غفلت ثابت ہوئی تو اسے کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا اور سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی پر زیرو ٹالرینس کی پالیسی نافذ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے