جو اختلافات رہ گئے ہیں اسکے باوجود مذاکرات جاری رہیں گے: ایران

اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ) پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری اہم سفارتی مذاکرات کا پہلا مرحلہ تقریباً 14 گھنٹوں کے طویل دورانیے کے بعد مکمل ہو گیا، تاہم فریقین نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کئی اہم اور حساس معاملات پر ابھی مزید پیش رفت درکار ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان بالمشافہ ملاقاتوں کے متعدد ادوار ہوئے، جس کے بعد دونوں جانب کے تکنیکی ماہرین نے ممکنہ معاہدوں سے متعلق تحریری مسودوں کا تبادلہ بھی کیا۔ ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی مفاہمتی راستے کی جانب بڑھ رہے ہیں، تاہم حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے مزید مشاورت ناگزیر ہے۔

ایرانی حکومت نے اپنے باضابطہ بیان میں تصدیق کی کہ مذاکرات کا یہ مرحلہ مکمل ہونے کے باوجود عمل ختم نہیں ہوا بلکہ آج بھی بات چیت جاری رہے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق بعض کلیدی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں، جن میں بالخصوص آبنائے ہرمز کی صورتحال، جوہری پروگرام، جنگی ہرجانے اور ایران پر عائد پابندیوں کے خاتمے جیسے امور سرفہرست ہیں۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی بات چیت میں نہ صرف ان اہم نکات پر تبادلہ خیال کیا گیا بلکہ خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اور ایران کے خلاف جنگ کے مکمل خاتمے جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے۔ ایرانی مؤقف کے مطابق سفارتی عمل کی کامیابی کا دارومدار دوسرے فریق کی سنجیدگی اور نیک نیتی پر ہے اور یہ ضروری ہے کہ ایران کے قانونی حقوق کو تسلیم کیا جائے۔

اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے پاس ہے، جن کے ہمراہ وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان مصافحہ بھی ہوا، جسے سفارتی برف پگھلنے کی ایک علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگ بندی کے معاملے کو بھی مذاکرات میں بھرپور انداز میں اٹھایا ہے اور امریکا پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اپنے وعدوں کی پاسداری پر مجبور کرے۔ اسی تناظر میں ایرانی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور خلاف ورزی کی صورت میں سخت ردعمل دیا جائے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے محتاط اور کسی حد تک لاتعلقی پر مبنی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہو یا نہ ہو، انہیں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، تاہم انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج اس حوالے سے صفائی کے اقدامات کر رہی ہیں، جبکہ چین کو ایران کو ہتھیار فراہم کرنے سے باز رہنے کی وارننگ بھی دی۔

عالمی سطح پر ان مذاکرات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، جبکہ مختلف حلقوں کی جانب سے امن کی اپیلیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ویٹیکن سٹی میں کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگی راستہ ترک کر کے مذاکرات اور ثالثی کو ترجیح دیں، ان کا کہنا تھا کہ طاقت کا اصل مظاہرہ انسانی خدمت میں ہے نہ کہ اسلحے کے استعمال میں۔

ادھر اسرائیل کے اندر سے بھی اختلافی آوازیں اٹھنے لگی ہیں، سابق نائب چیف آف اسٹاف یائیر گولان نے وزیر اعظم نیتن یاہو کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے اور موجودہ حکومت پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

مجموعی طور پر اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن کے لیے ایک اہم موقع تصور کیے جا رہے ہیں، تاہم پیچیدہ تنازعات، باہمی عدم اعتماد اور متضاد مطالبات کے باعث کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مزید وقت اور سنجیدہ سفارتی کوششیں درکار ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے