مشرق وسطیٰ بارود کے ڈھیر پر: اسرائیل کا ایران پر بڑا حملہ، ٹرمپ کی پل اور بجلی گھر تباہ کرنے کی دھمکی

تہران/واشنگٹن (کیو این این ورلڈ) اسرائیل نے ایران کے خلاف اب تک کی سب سے بڑی فضائی کارروائی کرتے ہوئے دارالحکومت تہران سمیت ملک بھر کی اہم فوجی و سول تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق اس حملے کا مقصد ایرانی دفاعی نظام کو مفلوج کرنا تھا، جس کے دوران تہران میں ایک رہائشی عمارت اور قدیم یہودی عبادت گاہ تباہ ہوگئی جبکہ مہر آباد ایئرپورٹ دھماکوں سے گونج اٹھا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو آخری وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر منگل کی رات 12 بجے تک جنگ بندی معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز کو نہ کھولا گیا تو ایران کے تمام پل، بجلی گھر اور انفراسٹرکچر تباہ کر دیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کو ایک ہی رات میں ختم کیا جا سکتا ہے اور وہ پہلے ہی اپنی فتح کا اعلان کر چکے ہیں۔

اسرائیلی اور امریکی دباؤ کے باوجود تہران نے کسی بھی قسم کی لچک دکھانے سے انکار کر دیا ہے، جس کے باعث پاکستان کی قیادت میں جاری ’’اسلام آباد اکارڈ‘‘ نامی جنگ بندی کی کوششیں شدید تعطل کا شکار ہو گئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران نے امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات ختم کر دیے ہیں، تاہم پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے انٹیلی جنس چیف ماجد خادمی کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے امریکی دھمکیوں کو جنگی جرائم قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی ریسکیو مشن کو محض ایک ڈھونگ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ واشنگٹن کا اصل مقصد ایرانی ایٹمی مواد چوری کرنا تھا۔

جنگ کی آگ اب پورے خطے میں پھیلتی دکھائی دے رہی ہے، ایران نے کویت میں امریکی ایئربیس پر حملہ کر کے 15 فوجیوں کو زخمی کر دیا ہے جبکہ شارجہ میں ٹیلی کمیونیکیشن کی عمارت پر ڈرون حملے میں دو پاکستانی شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ جواباً سعودی عرب نے اپنی حدود میں آنے والے 7 بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔ بحرین، متحدہ عرب امارات اور اردن کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد شہریوں نے جنگ کے لیے رضاکارانہ رجسٹریشن کرائی ہے۔ قطر نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کے ڈھانچے پر حملے نہ رکے تو اس کے عالمی معیشت پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔

سفارتی محاذ پر پاکستان کا کردار کلیدی حیثیت اختیار کر گیا ہے، جہاں کینیڈا اور قطر نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ثالثی کوششوں کی مکمل حمایت کی ہے۔ ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بھی پاکستانی کوششوں کو سراہا ہے، تاہم اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کو فون کر کے کسی بھی ممکنہ ریلیف یا جنگ بندی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے اس وقت 2 ہزار سے زائد بحری جہاز سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں، جس نے عالمی سپلائی چین کو مفلوج کر دیا ہے۔ سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز سے متعلق نئی قرارداد پر ووٹنگ آج متوقع ہے، جس پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے