ڈیرہ غازیخان:موٹرسائیکل رکشے کے خطرناک حادثے نے کئی سوالات کھڑے کر دیے

ڈیرہ غازی خان (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار ظفر کھوکھر) شہر کی مصروف ترین گزر گاہ بلاک نمبر 35 اور 36 کی درمیانی سڑک پر ایک انتہائی المناک اور خطرناک حادثہ پیش آیا ہے جس نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ ایک رکشہ ڈرائیور سواریوں والے رکشہ پر غیر قانونی طور پر لمبا اور نوکیلا سریا لاد کر جا رہا تھا کہ اس کی غفلت اور لاپرواہی کے باعث سامنے سے آنے والا نویں جماعت کا طالب علم محمد سلیمان شیرازی اس کا شکار ہو گیا۔

محمد سلیمان شیرازی جو کہ ملک کے معروف محقق، تاریخ دان اور کالم نگار محمد سجاد کھوکھر کے حقیقی بھانجے ہیں، شام کے وقت اکیڈمی سے پڑھ کر موٹر سائیکل پر گھر جا رہے تھے۔ رکشہ ڈرائیور کی غلط ڈرائیونگ اور رکشہ سے باہر نکلے ہوئے خطرناک لوہے کے سریوں کی زد میں آکر طالب علم شدید زخمی ہو کر موقع پر ہی بے ہوش ہو گیا۔ زخمی نوجوان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

عوامی حلقوں نے اس حادثے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح ماضی میں بکر منڈی، غلہ منڈی اور بس اسٹینڈز کو شہر سے باہر منتقل کیا گیا تھا، اسی طرح سریا مارکیٹ، ایل پی جی گیس مارکیٹ اور رکشہ اسٹینڈز کو بھی فوری طور پر شہر کی حدود سے باہر منتقل کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ان مارکیٹوں کی شہر میں موجودگی انسانی جانوں کے لیے مستقل خطرہ بن چکی ہے۔

شہریوں نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی خان اور متعلقہ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر سامان لوڈ کرنے والے رکشہ ڈرائیوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے اور اس حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور کو سخت ترین سزا دی جائے۔ انتظامیہ کی جانب سے ان مارکیٹوں کی فوری منتقلی ہی مستقبل میں ایسے جان لیوا حادثات کو روکنے کا واحد حل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے