ڈی جی خان میں کینسر ہسپتال

ڈی جی خان میں کینسر ہسپتال کیلئے راہ ہموار
ڈی جی خان میں کینسر ہسپتال کو کلثوم نواز سے منسوب کرنے کی تجویز ،سخی سرور روڈ پر کینسر ہسپتال کا آئندہ ماہ سنگ بنیاد رکھنے کا اعلان ،ڈی جی خان میں کینسر ہسپتال پنجاب حکومت کی زیر نگرانی بنے گا،کینسر ہسپتال کو مرحلہ وار 500 بیڈز تک کی توسیع کا عزم

تحریر: محمد جنید جتوئی، ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز، ڈی جی خان
ڈیرہ غازی خان سمیت جنوبی پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے متصل اضلاع میں کینسر کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس امر کی متقاضی ہے کہ اس خطے میں ایک جدید اور خودمختار کینسر ہسپتال کا قیام عمل میں لایا جائے۔ دستیاب ریکارڈ اور سرکاری و رجسٹری ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں 2015ء سے 2019ء کے دوران 2 لاکھ 69 ہزار 707 کینسر کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں تقریباً 45.1 فیصد پنجاب، 26.8 فیصد سندھ، 16.5 فیصد خیبر پختونخوا اور 3.5 فیصد بلوچستان سے رپورٹ ہوئے۔ ملک بھر میں سب سے زیادہ شرح بریسٹ کینسر کی سامنے آئی جبکہ مجموعی کیسز میں خواتین کا تناسب تقریباً 53.6 فیصد رہا۔

جنوبی پنجاب میں باقاعدہ رجسٹری محدود ہونے کے باوجود دستیاب اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیرہ غازی خان، ملتان اور بہاولپور ڈویژنز میں بریسٹ، لیور اور منہ کے کینسر کے کیسز تشویشناک حد تک موجود ہیں۔ اعداد و شمار کی روشنی میں ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال کا قیام محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک ناگزیر عوامی ضرورت بن چکا تھا۔ ضلع کے سیاسی قائدین، بالخصوص نو منتخب رکن قومی اسمبلی سردار محمود قادر خان لغاری نے انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدے کی تکمیل کے لیے مسلسل کاوشیں جاری رکھیں۔ وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری،اراکین صوبائی اسمبلی سردار احمد خان لغاری،سردار اسامہ فیاض لغاری،سردار علی یوسف لغاری،محمد حنیف پتافی، نو منتخب ایم پی اے اسامہ عبدالکریم اور دیگر اراکین اسمبلی نے بھی اس مقصد کے حصول میں اپنا کردار ادا کیا۔ووٹرز اور شہریوں نے کینسر ہسپتال کیلئے ہر پلیٹ فارم سے اپنی آواز بلند کی۔

رکن قومی اسمبلی سردار محمود قادر خان لغاری نے اپنے آفس میں میڈیا بریفنگ کے دوران اعلان کیا کہ ڈیرہ غازی خان میں آئندہ ماہ کینسر ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا۔ پنجاب حکومت کی زیر نگرانی تعمیر ہونے والے اس منصوبے کے لیے آئندہ صوبائی بجٹ میں دو ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔ سخی سرور روڈ پر وسیع رقبہ پہلے ہی مختص کیا جا چکا ہے۔
ابتدائی طور پر 50 بیڈز پر مشتمل خودمختار کینسر ہسپتال قائم کیا جائے گا جسے مرحلہ وار 500 بیڈز تک توسیع دی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹیچنگ ہسپتال میں 10 بیڈز کے یونٹ کی تجویز کے بجائے مکمل اور خودمختار کینسر ہسپتال ہی خطے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو تجویز دی ہے کہ ہسپتال کو بیگم کلثوم نواز کے نام سے منسوب کیا جائے۔

یہ ہسپتال نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ ملحقہ صوبوں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے مریضوں کے لیے بھی سہولت کا باعث بنے گا، جس سے بڑے شہروں پر بوجھ کم ہوگا اور مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج میسر آ سکے گا۔ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال کا قیام نہ صرف ایک صحت منصوبہ ہے بلکہ جنوبی پنجاب کی عوام کے لیے امید کی نئی کرن ہے۔ یہ منصوبہ خطے میں صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا اور عوامی خدمت کے عزم کی عملی تصویر پیش کرے گا

ایم این اے سردار محمود قادر خان لغاری نے یہ نوید بھی سنائی ہے کہ دریائے سندھ پر غازی گھاٹ کے مقام پر دو رویہ نیا پل بھی بنے گا۔42 سال پہلے بنایا پل اپنی معیاد پوری کر چکا ہے۔ٹریفک کی تعداد بڑھنے اور بین الصوبائی شاہراہ ہونے کی وجہ سے پل پر ٹریفک کی بندش اب معمول بن چکی ہے۔بین الصوبائی پل کی توسیع اور دو رویہ پل کی تعمیر کو بھی ایس ڈی پی میں شامل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ڈیرہ غازی خان میں مجوزہ کینسر ہسپتال، ٹیچنگ ہسپتال، سردار فتح محمد خان بزدار کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ اور دیگر صحت مراکز تک روزانہ ہزاروں مریضوں اور لواحقین کی آمد و رفت رہتی ہے۔ اسی طرح بلوچستان سے پھل، سبزیوں اور دیگر اشیائے خوردونوش کی ترسیل کے لیے بھاری مال بردار ٹرانسپورٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی دریائے سندھ پر غازی گھاٹ کے مقام پر قائم موجودہ پل سے گزرتی ہے۔بڑھتی ہوئی ٹریفک اور محدود گنجائش کے باعث غازی گھاٹ مقام پر اکثر گھنٹوں ٹریفک بلاک رہتی ہے جس سے مریضوں، تاجروں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت پہلے ہی ملتان سے مظفرگڑھ اور مظفرگڑھ سے ڈیرہ غازی خان تک دو رویہ، کشادہ اور کارپیٹڈ سڑک تعمیر کر چکی ہے جس سے سفری سہولیات میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اب غازی گھاٹ کے مقام پر دریائے سندھ پر دو رویہ پل کی تعمیر نہایت ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سیٹریفک کی روانی میں نمایاں بہتری آئے گی

بھاری ٹرانسپورٹ اور پبلک ٹرانسپورٹ کی بلا تعطل آمدورفت ممکن ہوگی۔مریضوں کو کم وقت میں ہسپتالوں تک رسائی ملے گی ڈیرہ غازی خان سے بلوچستان اور دیگر ملحقہ علاقوں تک تجارتی و سفری روابط مزید مستحکم ہوں گے دو رویہ پل کی تعمیر نہ صرف صحت اور سفری سہولیات کے لیے اہم ہے بلکہ یہ جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے درمیان معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گا۔

ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال کے قیام کا منصوبہ نہ صرف علاقے کے عوام بلکہ سیاسی اور انتظامی قیادت کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے۔ رکن قومی اسمبلی سردار محمود قادر خان لغاری، ضلع کے دیگر سیاسی قائدین اور شہریوں نے اس اہم صحت منصوبے کے لیے بھرپور حمایت فراہم کی جس سے ہسپتال کے قیام کے عمل کو تیز رفتاری ملی۔

اس کے ساتھ ساتھ، ڈویژنل اور ضلعی افسران بھی اس منصوبے میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔موجودہ کمشنر ڈیرہ غازی خان اشفاق احمد چوہدری، ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد اور دیگر اہم افسران نے نہ صرف ہسپتال کے لیے زمین کی نشاندہی میں معاونت کی بلکہ سخی سرور روڈ پر سرکاری اراضی مختص کرنے کے عمل میں بھی مکمل سنجیدگی اور شفافیت کا مظاہرہ کیا۔ ان کی کوششوں کی بدولت منصوبے کے لیے مناسب جگہ کا تعین اور قانونی امور مکمل ہوئے جس سے تعمیراتی کام کے آغاز کی راہ ہموار ہو گئی۔

سردار محمود قادر خان لغاری نے اس بات پر زور دیا کہ ہسپتال کی تعمیر میں عوام، سیاسی قیادت اور انتظامی افسران کی مشترکہ کوششیں صحت کے شعبے میں ایک کامیاب ماڈل کے طور پر سامنے آئیں گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ منصوبے کے آغاز کے ساتھ ہی ڈیرہ غازی خان میں جدید صحت سہولیات کی فراہمی میں ایک نیا باب شروع ہوگا اور علاقے کے کینسر کے مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج میسر آئے گا۔

یہ منصوبہ صحت کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور معاشرتی فوائد بھی فراہم کرے گا، کیونکہ ہسپتال کی تعمیر اور بعد کی خدمات کے لیے لوکل ٹرانسپورٹ، مارکیٹ اور دیگر شعبوں میں روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اس طرح ڈیرہ غازی خان میں کینسر ہسپتال کا قیام صرف ایک طبی مرکز نہیں بلکہ علاقے کی ترقی اور عوامی خدمت کی علامت بن جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے