لاہور: آپریشن تھیٹر میں سی سیکشنز کی ویڈیو بنانے پر 4 ڈاکٹرز کی ٹریننگ معطل، حکام کا سخت نوٹس

لاہور (کیو این این ورلڈ) صوبائی دارالحکومت کے معروف سرکاری طبی ادارے لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں آپریشن تھیٹر کے اندر دو سی سیکشنز کی ویڈیو بنانے کا معاملہ سامنے آنے پر محکمہ صحت نے سخت کارروائی کرتے ہوئے چار لیڈی ڈاکٹرز کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ معطل کر دی ہے، جبکہ متعلقہ حکام سے فوری وضاحت طلب کر لی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہسپتال کے گائنی آپریشن تھیٹر میں بیک وقت دو سی سیکشنز جاری تھے، جن کی ویڈیو بنائی گئی۔ ویڈیو میں مبینہ طور پر یہ تاثر بھی سامنے آیا کہ ڈاکٹرز کے درمیان یہ ایک غیر رسمی مقابلہ تھا کہ کون پہلے سی سیکشن مکمل کرتا ہے۔ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد معاملہ سنگین نوعیت اختیار کر گیا، جس پر حکومتی سطح پر فوری نوٹس لیا گیا۔

محکمہ اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر فرح انعام اور شعبہ گائناکالوجی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عظمیٰ حسین سے باضابطہ جواب طلب کر لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن تھیٹر جیسے حساس مقام پر ویڈیو بنانا نہ صرف قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی ہے بلکہ مریض کی پرائیویسی اور وقار کے بھی منافی ہے۔

جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق ویڈیو میں شامل چار لیڈی ڈاکٹرز — ڈاکٹر طیبہ فاطمہ طور، ڈاکٹر ماہم امین، ڈاکٹر زینب طاہر اور ڈاکٹر عائشہ افضل — کی پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ فوری طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ معاملے کی مکمل انکوائری کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے تاکہ ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔

صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے اس واقعے کو طبی اخلاقیات کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات مریض کے وقار کو مجروح کرتے ہیں اور پیشہ وارانہ ذمہ داریوں سے انحراف کے مترادف ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ صحت کے شعبے میں کسی بھی قسم کی غیر ذمہ دارانہ حرکت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب سیکرٹری صحت عظمت محمود نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ وقت کے اندر تسلی بخش جواب موصول نہ ہوا تو ذمہ دار افراد کے خلاف مزید سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق محکمہ صحت اس معاملے کو مثال بنانے کے لیے پالیسی سطح پر بھی اقدامات پر غور کر رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے واقعات کی روک تھام یقینی بنائی جا سکے اور طبی اداروں میں پیشہ وارانہ اخلاقیات کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے