بالٹک آئل ٹرمینل پر یوکرین کا ڈرون حملہ

ماسکو/کیو این این ورلڈ: یوکرین نے روس کے سب سے بڑے مغربی برآمدی آئل ٹرمینل، بالٹک آئل ٹرمینل، پر ڈرون حملہ کیا ہے، جس سے روسی تیل کی برآمدات متاثر ہو گئی ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق حملہ پریمورسک بندرگاہ پر ہوا، جو روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیرل خام تیل برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ بندرگاہ روسی تیل پر لگائی گئی پابندیوں سے بچنے والے ٹینکرز کے شیڈو فلیٹ کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر جانے جاتی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں بندرگاہ سے اٹھتے ہوئے بڑے شعلے اور دھوئیں کے بادل واضح طور پر دکھائی دیے، جو اس حملے کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ڈرون حملے میں ایندھن کے کئی ذخائر کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ روسی شہر اوفا میں واقع ایک آئل ریفائنری کو بھی متاثر کیا گیا، جس کے نتیجے میں وہاں کام روکنا پڑا۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب یوکرین نے سابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی پر احتجاج کیا تھا اور یورپی ممالک سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ روس پر دباؤ برقرار رکھیں۔

ماہرین کے مطابق اس حملے سے روس کی توانائی کی برآمدات پر وقتی دباؤ آئے گا اور یورپ میں توانائی کی مارکیٹ میں بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر روسی تیل کی رسد میں کمی کے باعث عالمی خام تیل کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے