ایران کا دوٹوک مؤقف، امریکا سے کوئی رابطہ نہیں

تہران (کیو این این ورلڈ) ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان مثبت مذاکرات کے دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی سطح پر کوئی بات چیت جاری نہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی صدر کے حالیہ بیانات حقیقت کے برعکس ہیں اور ان کا مقصد عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں کو کم کرنا اور اپنے فوجی منصوبوں پر عملدرآمد کے لیے وقت حاصل کرنا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان نہ کوئی براہ راست رابطہ ہے اور نہ ہی کسی قسم کی خفیہ یا سفارتی سطح پر بات چیت ہو رہی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بعض علاقائی ممالک کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں اور مختلف تجاویز بھی سامنے آئی ہیں، تاہم ان تمام اقدامات کا رخ واشنگٹن کی جانب ہونا چاہیے۔ ایران نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس جنگ کا آغاز کرنے والا فریق نہیں، اس لیے ذمہ داری بھی اس پر عائد نہیں ہوتی۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایک سینئر سکیورٹی عہدیدار نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے “نفسیاتی جنگ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے جوابی حملوں کی وارننگ نے امریکا کو اپنے ممکنہ حملے مؤخر کرنے پر مجبور کیا ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے، جو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے حل کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ مذاکرات پورا ہفتہ جاری رہیں گے اور اسی تناظر میں امریکی محکمہ دفاع کو ہدایت دی گئی ہے کہ ایرانی پاور پلانٹس اور توانائی تنصیبات پر ممکنہ حملے پانچ دن کے لیے روک دیے جائیں۔

امریکی اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت 109 ڈالر فی بیرل سے کم ہو کر 94 ڈالر تک آگئی، تاہم بعد میں معمولی اضافے کے ساتھ 97 ڈالر سے تجاوز کر گئی اور اس وقت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب ہے۔

دوسری جانب امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی تقریباً 10 فیصد کمی کے بعد 88.80 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔ ماہرین کے مطابق امریکی بیان اور ممکنہ کشیدگی میں کمی کے تاثر نے عالمی توانائی مارکیٹ پر فوری اثر ڈالا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے متضاد بیانات نہ صرف خطے میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہے ہیں بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کو بھی متاثر کر رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے