گھوٹکی(کیو این این ورلڈ/نامہ نگار)تھصیل میرماتھیلو کے علاقہ جروار میں سچ کی آواز بلند کرنے پر صحافی مشتاق علی لغاری کو سنگین نتائج کی دھمکیاں ملنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ایس ایچ اور تھانہ جروارکو اطلاع ہونے کے باوجود پولیس کی جانب سے ملزمان کے خلاف ٹھوس کارروائی نہ ہونے پر صحافتی حلقوں اور شہریوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
گاؤں خدابخش لغاری کے رہائشی مقامی صحافی مشتاق علی لغاری نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں حق گوئی کی پاداش میں قتل اور اغوا جیسی ہولناک دھمکیاں دی جا رہی ہیں جس سے ان کا پورا خاندان غیر محفوظ ہو چکا ہے اور علاقے میں خوف کا ماحول ہے۔
متاثرہ صحافی کے مطابق واقعے کی اطلاع فوری طور پر جروار پولیس کو دی گئی تھی تاہم پولیس نفری نے موقع پر پہنچ کر صرف ملزمان کے گھروں کے چکر لگانے پر اکتفا کیا اور کسی بھی نامزد ملزم کو گرفتار کرنے سے گریز کیا گیا جس سے پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔دوسری طرف ایس ایچ او کہنا تھا کہ جب کچھ ہوگا تو دیکھیں گے ،آج عید ہے میرے پاس وقت نہیں کل دیکھوں گا کیا کرنا ہے
مشتاق علی لغاری نے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں یا ان کے اہل خانہ کو کوئی بھی جانی یا مالی نقصان پہنچا تو اس کی تمام تر ذمہ داری ایس ایچ او جروار، متعلقہ پولیس اہلکاروں اور دھمکیاں دینے والے بااثر افراد پر عائد ہوگی۔
متاثرہ صحافی نے آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی گھوٹکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں اور تحفظ فراہم کرتے ہوئے غفلت کے مرتکب اہلکاروں اور ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائیں۔