کیسے کہوں عید مبارک
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
عید… خوشیوں، محبتوں، گلے ملنے اور رب کے حضور شکر ادا کرنے کا دن۔ مگر آج میرا دل یہ سوال بار بار دہرا رہا ہے: کیسے کہوں “عید مبارک”؟ کیسے خوشی مناؤں جب امت مسلمہ کا خون بہ رہا ہے، جب مشرق وسطیٰ میں امریکی و اسرائیلی مسلط کردہ جنگیں انسانی جذبات کو جھلسا رہی ہیں، اور پاکستان میں فتنہ الخوارج کے خلاف پاک فوج کا آپریشن “غضب للحق” جاری ہے؟ یہ صرف الفاظ نہیں، بلکہ ایک انسانی فریاد ہے—ایک سوال کہ کیا واقعی یہ وہ عید ہے جسے ہم دل سے منا سکتے ہیں؟
جب ہم غزہ کی طرف دیکھتے ہیں، تو وہاں کی صورتحال دل دہلا دینے والی ہے۔ اکتوبر 2023 سے جاری اس جنگ میں 75,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف شماریاتی حقائق نہیں، بلکہ وہ بچے ہیں جو اپنی ماں کی گود میں مرے، وہ والدین جو اپنے بچوں کے مرنے کا غم برداشت کر رہے ہیں، اور وہ خواتین جو بغیر طبی سہولت کے ولادت کے دوران زندگی کی بازی ہار رہی ہیں۔ لاشیں ملبے تلے دب گئی ہیں، ہسپتال ناکارہ ہو چکے ہیں، اور بھوک اور بیماری نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ انسانی سوچ اور احساس یہ قبول نہیں کر سکتے کہ ایک عید کے دن، بچے بغیر خوراک کے مر رہے ہوں، خواتین خوف میں جی رہی ہوں، اور لوگ زندگی کی بقا کے لیے دعا کر رہے ہوں۔
لیکن غزہ کی تباہی صرف آغاز ہے۔ فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا، جس میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے۔ اس کے ردعمل میں لبنان میں نئی جنگ شروع ہوئی، جس میں ہزاروں افراد شہید اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ بیروت، دمشق، جنوبی لبنان کی گلیاں ملبے سے بھر گئیں۔ انسانی جذبات اس منظر کو دیکھ کر لرز اٹھتے ہیں—ایک ماں جو اپنے گھر کو جلتا دیکھ رہی ہے، ایک باپ جو اپنے بچے کی لاش اٹھا رہا ہے، اور لاکھوں لوگ جو ہر پل موت کے خوف میں جی رہے ہیں۔ یہ صرف سیاسی تصادم نہیں، بلکہ ایک انسانی المیہ ہے، جس کی شدت ہر مسلمان کے دل پر اثر ڈالتی ہے۔
پاکستان کی سرزمین بھی امن سے محروم ہے۔ فتنہ الخوارج، یعنی تحریک طالبان پاکستان ،بی ایل اے اور ان کے اتحادی، ملک کے مختلف حصوں میں دہشت پھیلا رہے ہیں۔ اسلام آباد، باجوڑ اور بنوں میں خودکش حملے، فوجی قافلوں پر حملے، اور عام شہریوں کی زندگیوں کو داؤ پر لگانا،یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ وطن کی حفاظت کے لیے پاک فوج اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہے۔ آپریشن “غضب للحق” دشمن کی کمر توڑنے کی ایک کوشش ہے، مگر اس دوران ہمارے جوان قربانیاں دے رہے ہیں اور ان کے اہل خانہ کی عید بھی غم میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ایک ماں جس کا بیٹا شہید ہو گیا، ایک بیوی جو ہر آواز پر ڈر کر اٹھتی ہے اور بچے جو اپنے والد کی تصویر سے باتیں کرتے ہیں،ان کے لیے کیا عید واقعی خوشی کا دن ہے؟
یہ سب مناظر ہمیں انسانی جذبات کے عمیق اور دردناک حقائق کے سامنے لاکھڑا کرتے ہیں۔ ہم عید کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔۔۔۔۔نئے کپڑے، میٹھے پکوان، تحائف اور سوشل میڈیا پر مبارکباد کے پیغامات۔ مگر کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہماری خوشیوں کی قیمت کیا ہے؟ کیا ہم واقعی خوش ہو سکتے ہیں جب ہمارے ہی بھائی بہن دنیا کے مختلف حصوں میں موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں؟
یہ صرف جنگ اور دہشت گردی کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی ضمیر کا امتحان بھی ہے۔ ہم اکثر دکھ دیکھ کر چند لمحوں کے لیے افسوس کرتے ہیں، پوسٹ شیئر کرتے ہیں اور پھر روزمرہ زندگی میں واپس آ جاتے ہیں۔ مگر کیا یہی امت کی ذمہ داری ہے؟ کیا یہی وہ جسم ہے جس کے ہر حصہ کی تکلیف پوری امت کو محسوس ہونی چاہیے؟ ہماری اجتماعی بے حسی ہمیں حقیقت سے دور کر رہی ہے اور یہ لمحہ سب سے بڑا نقصان دہ ہوتاہے۔ کیونکہ جب ہم ظلم کو معمول سمجھ لیتے ہیں، خاموش رہتے ہیں، تو ہم بھی اس ظلم کا حصہ بن جاتے ہیں۔
عید کا اصل پیغام قربانی، ایثار اور یکجہتی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوشیوں کا مزہ صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے سوچنے، مظلوم کے لیے آواز بلند کرنے اور انسانی درد کو محسوس کرنے میں ہے۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنی زندگی میں شامل کر لیں، تو شاید ہم واقعی دل سے کہہ سکیں کہ “عید مبارک”۔ ورنہ یہ الفاظ محض ایک رسم بن کر رہ جائیں گے۔
ہمیں اپنی دعاؤں میں اخلاص پیدا کرنا ہوگا، اپنے اعمال میں سچائی لانی ہوگی اور دلوں کو زندہ کرنا ہوگا۔ امت کی طاقت وحدت میں ہے، نہ کہ تقسیم میں۔ اختلافات سے اوپر اٹھ کر ایک دوسرے کا سہارا بننا ہی حقیقی ایمان ہے۔ اسی سے ہم نہ صرف اپنے دل کی خوشی محسوس کر سکتے ہیں بلکہ دوسروں کے دکھ درد کو بھی بانٹ سکتے ہیں۔
یہ کالم مایوسی کا پیغام نہیں بلکہ بیداری کی کوشش ہے۔ اندھیروں کے باوجود روشنی کی امید باقی ہے، شرط یہ ہے کہ ہم خود کو بدلنے کے لیے تیار ہوں۔ اگر ہم نے آنکھیں بند رکھی تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ تو ایک بار خود سے سوال کریں کہ کیا ہم واقعی عید منا رہے ہیں یا صرف رسم ادا کر رہے ہیں؟ اور اگر دل سے جواب آئے کہ کچھ کمی ہے، کچھ درد ہے، کچھ خلش ہے… تو یہی احساس ہماری نجات کا پہلا قدم ہے۔
عید الفطر 2026 پاکستان میں کل یعنی 21 مارچ کو منائی جائے گی ، سعودی عرب اور مشرق وسطی کے ممالک میں آج منائی جارہی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ عید غم کی عید بن چکی ہے۔ بچوں کے ہنسنے کی جگہ بھوک اور خوف نے لے لی، گھروں کی خوشبو کے درمیان بموں کی بو گھل گئی ہے اور عید کی نماز میں دل خوف و اضطراب کے سائے تلے ہے۔
پھر بھی، ایک امید باقی ہے۔ انسانی جذبات، درد اور احساس کو طاقت میں بدلنا ممکن ہے۔ اگر ہم اپنے کردار کا جائزہ لیں، ظلم کے خلاف کھڑے ہوں، مظلوم کے لیے آواز بلند کریں اور اپنے اعمال میں خلوص پیدا کریں، تو شاید ہم واقعی دل سے کہہ سکیں کہ “عید مبارک… مگر دل اداس ہے، آنکھوں میں نمی اور یادوں میں قربانی کی خوشبو ہے۔”
یہی وہ عید ہے جو حقیقی معنوں میں انسانی فکر، احساس اور امت کی ذمہ داری کا آئینہ ہے۔ یہ صرف ایک تہوار نہیں، بلکہ ایک سوچ ہے، ایک فریاد ہے اور ایک پیغام ہے کہ عید کی خوشی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب ہم اپنے درد، دوسروں کے درد، اور دنیا کی انسانی حقیقتوں کے ساتھ جُڑ جائیں۔
انہی ملے جلے جذبات، آنکھوں میں نمی اور دل میں ڈھیروں دعاؤں کے ساتھ میں یہ کہنے کی ہمت کرتا ہوں کہ "عید مبارک” ان کو جو حق پر ڈٹے ہوئے ہیں، ان کو جو شہادتوں کا قرض چکا رہے ہیں اور ان کو جو دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں۔ اللہ رب العزت امت مسلمہ کو اتحاد، امن اور حقیقی خوشیاں نصیب فرمائے اور ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم اپنے عمل سے دنیا کو بدل سکیں۔
