علی لاریجانی کی شہادت کے بعد اسرائیل پر میزائل کی بارش ، تل ابیب میں تباہی

تہران/تل ابیب: (کیو این این ورلڈ)ایران نے قومی سلامتی کے سیکرٹری علی لاریجانی کی شہادت کے بعد اسرائیل پر شدید میزائل حملے کرتے ہوئے تل ابیب کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں تباہ جبکہ کم از کم 2 افراد ہلاک ہو گئے۔

پاسداران انقلاب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "آپریشن وعدہ صادق 4” کے تحت اسرائیل کے خلاف حملوں کی 61ویں لہر شروع کر دی گئی ہے۔ بیان کے مطابق تل ابیب پر خرمشہر-4، قدر، عماد اور خیبر شکن جیسے جدید میزائل داغے گئے، جن کے ذریعے 100 سے زائد فوجی اور سکیورٹی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔

ایرانی حکام کے مطابق حملوں کے بعد تل ابیب کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی جبکہ کئی مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔ عینی شاہدین کے مطابق شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ہنگامی سروسز کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ یہ حملے علی لاریجانی کے قتل کے جواب میں کیے گئے، جن میں کلسٹر وارہیڈز سے لیس میزائل بھی استعمال کیے گئے۔ خبر ایجنسیوں کے مطابق ان حملوں کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں تباہ ہوئیں اور مختلف مقامات پر دھماکوں کے بعد آگ لگ گئی، جس سے کم از کم 2 افراد ہلاک ہو گئے۔

یاد رہے کہ علی لاریجانی کو حالیہ امریکی و اسرائیلی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، جس میں ان کے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی بھی شہید ہو گئے تھے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ مشرقی تہران میں پیش آیا، جہاں وہ اپنی بیٹی سے ملاقات کے لیے گئے ہوئے تھے۔

خطے میں کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست تصادم کے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں، جس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر پڑ سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے