گوجرانوالہ: (کیو این این ورلڈ/ بیوروچیف محمدرمضان نوشاہی)گوجرانوالہ میں انسانیت سوز واقعے کا انکشاف ہوا ہے جہاں ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اس کی اپنی پھوپھی نے بیرونِ ملک عمان فروخت کر دیا۔ متاثرہ بچی کو عمان پولیس نے بازیاب کرا کے پاکستان واپس بھجوا دیا، جہاں اسے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اس کے والدین کے حوالے کیا گیا۔
ڈائریکٹر فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی محمد بن اشرف کے مطابق متاثرہ لڑکی کے بیان پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جس میں اس کی پھوپھی سمیت 3 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ مزید سہولت کاروں کی تلاش بھی جاری ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ لڑکی نے بیان دیا کہ سال 2022 میں اس کی پھوپھی اسے بیوٹی پارلر کا کام سکھانے کے بہانے اسلام آباد لے گئی، جہاں ایک نامعلوم شخص کے ساتھ اس کی جبری شادی کر دی گئی۔ لڑکی کے مطابق دو سال بعد ملزمہ اسے اپنی بیٹی ظاہر کر کے عمان لے گئی۔
متاثرہ لڑکی نے الزام لگایا کہ عمان پہنچنے کے بعد اس سے زبردستی غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث کروایا گیا اور بعد ازاں اسے ایک مقامی شخص کو فروخت کر دیا گیا۔ لڑکی نے بتایا کہ اس نے ایک پادری کی مدد سے پولیس سے رابطہ کیا، جس پر عمانی حکام نے کارروائی کرتے ہوئے اسے بازیاب کرایا اور مبینہ شوہر کو گرفتار کر لیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے محمد بن اشرف کا کہنا ہے کہ مقدمے میں نامزد ملزمان کے ساتھ ساتھ انسانی اسمگلنگ کے اس نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور متاثرہ بچی کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے حکام نے کیس کو انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت کے زمرے میں رکھتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے جبکہ بیرونِ ملک موجود ممکنہ ملزمان کے خلاف بھی انٹرنیشنل سطح پر کارروائی کے لیے متعلقہ اداروں سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔