ننکانہ صاحب (کیو این این ورلڈ/احسان اللہ ایاز):عیدالفطر کی آمد میں چند روز باقی رہ گئے ہیں مگر ننکانہ صاحب میں صفائی کا نظام سنبھالنے والے سینکڑوں محنت کش ملازمین کے گھروں میں خوشیوں کے بجائے فکر اور بے بسی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی (LWMC) کے تقریباً 1300 ورکرز تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں، جس کے باعث ان کے بچوں کی عید بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
متاثرہ ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومتِ پنجاب کی جانب سے عید سے قبل ایڈوانس تنخواہوں کی ادائیگی کی ہدایات جاری کی گئی تھیں، تاہم مقامی سطح پر مبینہ غفلت اور بدانتظامی کے باعث نہ تو ایڈوانس ملا اور نہ ہی فروری کی مکمل تنخواہ ادا کی گئی۔ کئی ورکرز کو یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ تنخواہ مکمل کے بجائے جزوی طور پر دی جائے گی، جس نے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ورکرز کے مطابق گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ چکے ہیں، راشن کا حصول مشکل ہو گیا ہے اور بچوں کیلئے نئے کپڑے، جوتے اور عیدی کا انتظام کرنا خواب بنتا جا رہا ہے۔ والدین اپنے بچوں کی خواہشات پوری نہ کر پانے پر شدید ذہنی دباؤ اور شرمندگی کا شکار ہیں، جبکہ گھروں میں اداسی اور خاموشی کا راج ہے۔
صفائی ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ روزانہ شہر کو صاف ستھرا رکھنے کیلئے سخت محنت کرتے ہیں مگر آج خود ان کے اپنے گھروں میں بنیادی ضروریات کا فقدان ہے۔ ان کا سوال ہے کہ کیا عید کے موقع پر ان کے بچے بھی دیگر بچوں کی طرح خوشیاں منا سکیں گے یا محرومی ہی ان کا مقدر بنے گی؟
ملازمین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ڈپٹی کمشنر محمد تسلیم اختر راؤ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے تمام واجبات بلا تاخیر ادا کیے جائیں اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ ان کے بچوں کی عید کی خوشیاں بحال ہو سکیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر تنخواہیں ادا نہ کی گئیں تو وہ احتجاج اور ہڑتال پر مجبور ہوں گے، جس سے شہر کا صفائی نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔